تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 294
۲۸۹ ہوتے ہیں ان کی ضرور مخالفت ہوا کرتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریک خدا تعالیٰ کو پسند نہیں کو تین دن کے بعد ان کو کسی کی طرف سے مغلظ گالیوں سے پر ایک خط آیا۔وہ حضرت خلیفہ اسیح اول کے پاس آئے اور کہنے لگے نورالدین مبارک ہوئیں نے جو کام شروع کر رکھا ہے وہ خدا تعالیٰ کو پسند آگیا ہے تجھے آج ایک شخص کی طرف سے مغلظ گالیوں کا ایک پلندا آیا ہے۔غرض ہر الہی جماعت کی مخالفت لازمی ہے لیکن اسے یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ آیا اس نے اپنے آپ کو اس مقام پرکھڑا کر لیا ہے کہ دنیا اس سے خفا ہوا اور خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو۔اگر یہ دونوں باتیں پیدا نہیں ہوئیں اور خدا تعالیٰ بھی اس سے ناراض ہو گیا ہے اور دنیا بھی اس پر ناراض ہے تو وہ خسر الدنيا والأخرة ہو گیا۔دنیا میں بھی اسے گھاٹا ہوا اور اگلے جہان میں بھی اسے گھاٹا ہوگا۔پس ہماری جماعت جو انقلاب پیدا کرنے کی دعویدار ہے اس کی مخالفت تو ضروری ہے لیکن ہمارا مقام یہ ہے کہ ہم پہلے اپنی اصلاح کریں۔یہ روحانی انقلابی جماعتوں کی مخالفت یکساں نہیں رہتی کبھی زوروں پر ہوتی ہے اور کبھی کم ہو جاتی ہے۔جیسے سورج پڑھتا ہے غروب ہوتا ہے اور دوسرے دن پھر چڑھتا ہے۔انسان کو کسی وقت بھوک لگی ہوئی ہوتی ہے اور کسی وقت وہ سیر ہوتا ہے اسی طرح مخالفت میں بھی اُتار اور چڑھاؤ پایا جاتا ہے کبھی مخالفت ایسی شدید ہوتی ہے کہ وہ انسانی مقابلہ سے بالاتر ہو جاتی ہے اور کبھی وہ اتنی کمزور ہوتی ہے کہ اس کا مقابلہ انسان کی طاقت کے اندر ہوتا ہے ایسے وقت میں وہ بوجھ خود اُٹھاتا ہے لیکن جب اس کا مقابلہ اس کی طاقت سے بالا ہو جاتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا اور اس سے استمداد کرتا ہے۔ہماری جماعت پر بھی یہ مصائب مختلف رنگوں اور مختلف زبانوں میں آئے ہیں۔ہم پر وہ وقت بھی آیا جب ہماری مخالفت اتنی شدید ہو گئی کہ اس کا مقابلہ ہماری طاقت سے بالا تھا ایسے مواقع پر ہم نے ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اس سے مدد مانگی۔اور جب ہماری دعائیں اور گریہ وزاری اس مقام پر پہنچ گئی جب موش بھی ہل جایا کرتا ہے تو وہ شنی گئیں اور مخالفت با مدت ہو کر رہ گئی۔یہ زمانہ بھی ہم پر ایسا آرہا ہے جب اندرونی اور بیرونی طور پر نیز بعض حکام کی طرف سے بھی اور رعایا کی طرف سے بھی ، علماء کی طرف سے بھی اور امراء کی طرف سے بھی نرمی ہر جمعہ اور ہر گروہ میں ایک حقہ ایسا ہے جو احمدیت کی مخالفت پر تکا ہوا ہے۔لائے۔له الفضل اور تبلین هر فروری ۱۹۵۷ ماه 719A1