تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 295
٢٩٠ اس قسم کے نازک مواقع پر یکس جماعت کو اتنے حصّہ میں شریک کر تا رہا ہوں کہ میں انہیں دعا کی طرف تحریک کیا کرتا ہوں اور مخلصین نے ہمیشہ میر میں اس تحریک کو قبول کیا ہے اور انہوں نے اس طرح دعائیں کی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مصیبت کو ٹلا دیا۔سوئیں ایک دفعہ پھر اس نازک موقع پر جس کی اہمیت کو جماعت نہیں سمجھتی حتی کہ قریب ترین لوگ اور اعلیٰ درجہ کے افسر بھی اسے نہیں سمجھتے جماعت میں دعا کی تحریک کرتا ہوں اسے اس تمہید کے بعد فرمایا : یہ وقت بہت نازک ہے اور اس وقت یکی جماعت کے مخلص دوستوں کو بلاتا ہوں اور ان سے کھتا ہوں کہ وہ دعاؤں میں لگ جائیں۔اس وقت سب سے زیادہ کام دینے والی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ دعا ہے اللهم إنَّا نَجْعَلكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ کہ اے خدا ہم دشمن کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے ہم اس کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے اس لئے چاہتے ہیں کہ ان کے مقابلہ میں ہماری طرف سے تو کھڑا ہو جا۔ہم ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔دوسری بات ہو اس موقع پر زیادہ مفید ہے کہتی ہے وہ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحمدِ لا سُبْحَانَ اللہ العظیم کا ورد ہے۔تیسری چیز درود ہے اور چوتھی چیز نماز میں زیادتی ہے۔جو لوگ تہجد پڑھے سکتے ہیں وہ تہجد کے وقت یہ دعا کیا کریں۔اور تو تہجد نہیں پڑھ سکتے وہ کسی اور وقت دو نفل پڑھ لیا کریں۔خواہ اشراق کے وقت یعنی 9 بجے کے قریب یا عصر سے پہلے دو نفل پڑھ لیا کہ میں اور ان نفلوں میں خصوصیت سے یہ دعائیں مانگا کریں۔ہم اپنا پہلا چکہ چالیس دن کا مقرر کرتے ہیں۔چونکہ خطیب کے شائع ہونے میں کچھ دیر لگے گی اس لئے جو احباب اس چلہ میں شریک ہونا چاہتے ہیں اُن کی سہولت کے لئے ہم آج سے چودہ دن بعد یہ چلہ شروع کرینگے یعنی یہ چلہ ۱۶ ؍ فروری سے شروع ہو گا اور چالیس دن جاری رہے گا یعنی ۷ رمان چ تک۔اس کے ساتھ ہی میں یہ تحریک بھی کرتا ہوں کہ ان ایام میں سات زے رکھے جائیں۔ہر ہفتہ میں پیر کے روز روزہ رکھا جائے۔پہلا پیر ان ایام میں 19 فروری کو آئیں گا اور ۱۲ اپریل تک یہ سات روزے ختم ہوں گے۔یہ روزے اس طرح بھی رکھے جاسکتے ہیں کہ جن پر له الفضل التبليغ ه ۱۳۵۳ / فروری ۹۵۷ئه م به