تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 257
۲۵۲ د ولادت حمله بیعت ۱۹۰ مر ، وفات - حضرت ڈاکٹر محم طفیل صاحب بٹالوی : به ماه ظهور ۱۳۹۶ / اگست ۸۹) حضرت ڈاکٹر صاحب کے مختصر حالات تاریخ احمدیت جلد سوم میں شاعر کے ممتاز صحابہ کے ضمن میں آچکے ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت ماسٹر مولا بخش صاحب اور آپ کی وفات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا:۔یہ دونوں بزرگ بہت نیک اور مخلص اصحاب میں سے تھے جو عرصہ ہوا اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے قادیان میں آباد ہو چکے تھے اور پھر گذشتہ انقلاب کے نتیجہ میں قادیان سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور دونوں کو سلسلہ کے محکم تعلیم میں کافی خدمت کا موقع میسر آیا اور سین اتفاق سے دونوں بالا آخر مدرسہ احمدیہ سے (جو سلسلہ کی ایک مخصوص دینی درسگاہ ہے، اپنی ملازمت کا عرصہ پورا کر کے ریٹائر ہوئے مگر اس ریٹائر منٹ کے بعد بھی ان کی خدمت کا سلسلہ جاری رہا۔چنانچہ ماسٹر مولا بخش صاحب مر توم حضرت امیر المومنین خلیفہ اسی ایدہ اللہ کے چھوٹے بچوں اور ہمارے خاندان کے دوسرے بچوں کو پرائیویٹ ٹیوٹر کی حیثیت میں پڑھاتے رہے اور ماسٹر محمد طفیل صاحب مرحوم کو جلسہ سالانہ کے ایام ہیں سلسلہ کے مہمانوں کی خدمت کا نمایاں موقع ملتا رہا۔دونوں اصحاب موصی تھے اور نماز اور دیگر اعمال صالحہ کے بجالانے میں خوب چوکس اور ستعد لکھتے یہ نے وله (ولادت اندازاً شائر - وفات ۳ تبوک ۹ - حضرت مولانا محمد امیر صاحب آن آسامی ۱۳۹۵ مطابق سمر ستمبر ۹۵ العمر ۹۶ سال) حضرت مولانا صاحب علاقہ آسام میں احمدیت کے ستون اور بڑے جوشیلے مخلص اور بہا در احمدی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شمارے میں پہلا تیبینی اشتہار جو انگریزی اور اردو میں شائع ہوا ہ تھا حضرت امام الواعظین مولوی غلام امام صاحب منی پور کے ذریعہ آپ کے ہاتھ لگا اشتہار کا پڑھنا تھا کہ آپ کا چہرہ روشن ہو گیا اور آپ نے بلا تامل بیعت کا خط حضرت اقدس کی خدمت میں لکھ دیا۔له الفضل ، تبوک ۱۳۳۹ /ستمبر ۹۵ه متا زیر عنوان دو مخلصین کی وفات سے والد ماجد خان بہادر محمد عطاء الرحمن صاحب سابق ہوم سیکرٹری حکومت آسام ۳ تفصیل تاریخ احمدیت جلد دوم میں آچکی ہے ؟ ۳۱۳۵۲ صحابہ کہار میں سے تھے۔آپ کا نام ضمیمہ انجام آنتقم م۲۲ ۲۳ پر مندرج ہے ؟