تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 252
۲۴۷ ہماری جماعت میں سید بھی ہیں آپ ان سے رشتہ کر سکتے ہیں۔ہاں اگر سید نہ ملیں تو سید پر اصرار نہیں کرنا چاہیئے۔(۲) یکی مسلسل چالیس سال سے جلسہ میں شرکت کر رہا ہوں ایک ناغہ بھی نہیں کیا۔(۳) جب دوا تریاق الہی تیار ہوئی تو میری خواہش پر حضرت صاحب نے مجھے بھی کچھ دیا اور کچھ کونین بھی عطا فرمائی تھی۔(۴) ایک گرتہ حضرت ام المومنین نے نے حضرت صاحب کا عطا فرمایا تھا جو اس وقت میرے لڑکے ستید محمد ہاشم نمای بخاری کے پاس محفوظ ہے۔حضرت صاحب نے مجھے براہین احمدیہ کے پہلے چاروں حصے خود اپنے دست مبارک سے عطا فرمائے تھے۔حقیقۃ الوحی بھی آپ کی عطیہ میرے پاس ہے۔نزیاق القلوب تحفہ گولڑویہ اور خطبہ الہامیہ عطا فرما کر حضور نے فرمایا تھا کہ ان کتابوں کو ایک جلد میں کر لینا، ریویو اردو بھی حضور نے ہی میرے نام جاری فرمایا تھا۔ایک سال کے بعد یکی خریدار بن گیا ہے آپ کی وفات پر حضرت مصلح موعودؓ نے ۳۰ احسان هر ۱۳۲۹ جون ۱۹۵ئہ کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :- قاسم میاں اکثر قادیان آتے رہتے تھے اور دیر دیر تک قادیان رہا کرتے تھے۔حافظ مختار احمد صاب شاہجہانپوری کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھے بہندوستان کے گذشتہ فسادات میں جو تباہی مسلمانوں پر آئی اس کا صدمہ ان پر گراں گزرا اور اسی صدمہ کی وجہ سے وہ نڈھال ہو گئے اور فوت ہو گئے “ سے ربیعت ۸۹ یا ۸۹۹ائر وفات ۲۰ روفا ه۱۳۳۹ ایا - - حضرت بابا محمد حسن صاحت - مطابق ۲۰ جولانی شار بعمر اسی سال ) -۶- ۲۰ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے موصی ما با با حسن محمد صاحب بھی پھل جیسے " کے عنوان سے مندرجہ ذیل نوٹ سپر و قلم فرمایا جس سے حضرت بابا صاحب کے حالات و سوانح اور شمائل و خدمات پر مختصر مگر بلیغ روشنی پڑتی ہے۔فرمایا :- بابا صاحب مرحوم او جبلہ مضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے اور صحابیوں کی ایک خاص پارٹی روایات صحابہ جلد ۱ ص ۲۲، ص ۲۳) (غیر مطبوعه) : ۵۲ الفضل در جولائی ۱۹۵۰ ܀ والد ماجد مولانا رحمت علی صاحب مجاہد جاو او سمارا اپنے اصل نام محمد حسن ہی ہے دور یکارڈ بہشتی مقرہ)