تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 251
۲۳۶ انہی دنوں آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں سب سے اچھی بات کونسی دیکھی ؟ فرمایا :- یکس نے سب سے اچھی بات اُس وقت یہ دیکھی کہ صحابہ سیح موعود علیہ السلام میں ہر وقت ایک یہ چند بہ موجزن رہتا تھا کہ حضور علیہ السلام کی طرف سے کوئی حکم یابند مت لے تو وہ عاشقوں کی طرح اس کو کرنے کو تیار رہتے تھے اور ہر صحابی کا یہی خیال بلکہ خواہش اور تڑپ ہوتی تھی کہ یہ خدمت مجھے دی جائے اور اس کام کے کرنے کا مجھے ہی شرف حاصل ہوا اور یہ ان میں ایک والہانہ جذبہ تھا جو صحابہ میں سب سے اچھا مجھے نظر آیا ہے بیعت ۱۹۹۴ - زیارت - حضرت سید محمد قاسم میاں بخاری شاہجہانپوری است بر وفات ۱۳۳۲۹ / ۱۹۵ بعمر ۸۱ سال قریباً) حضرت سید محمد قاسم صاحب اُن عشاق احمد یت میں سے تھے جن کو قادیان دارالامان میں بار بار آنے اور اس کی برکات سے بہت مستفید ہونے کا موقع ملا۔آپ نے ۲۳ ستمبر ۱۹۳۹ئر کو اپنی چشم دید روایات بیان کرتے ہوئے فرمایا :- (1) میں نے حضور ( حضرت مسیح محمدی علیہ السلام - ناقل) کی خدمت میں دو سوال کئے تھے ایک تو رشتہ کے متعلق تھا اور ایک نماز کے بارہ ہیں۔نماز عشاء میں وتر کے متعلق سوال تھا کہ وتر کیسے پڑھے جاویں ؟ آپ نے فرمایا کہ وت کہتے ہیں دو کے اوپر جو ایک ہوتا ہے اور ایسے تین ہو جاتے کے ہیں اس لئے دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرنے کے بعد پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھنی چاہیئے۔دوسرا سوال رشتوں کے متعلق تھا۔میں چونکہ سادات خاندان سے ہوں مجھے اور میرے والد صاحب کو قومیت کا بہت خیال تھا مگر یہاں یہ کہا گیا کہ کوئی امتیاز نہیں۔یہ بات میرے وانتھر کے کے لئے گراں تھی میں نے حضور سے عرض کی کہ اس کے متعلق یہ مشکلات ہیں تو حضور نے یہ فرمایا کہ ہمارا یہ منشاء نہیں ہے کہ امتیاز مٹایا جائے بلکہ اس کے اُوپر ضد یا ہٹ کر کے مصیر نہ ہونا چاہیئے۔ه الفضل ۳۰ مارچ ۹۵ ه ص ( ملخصاً) به سه والد ماجد سید محمد ہاشم صاحب بخاری مبلغ نمانا و سیرالیون روایات صحابہ (غیر مطبوعہ) جلد علا من ۲۲، ص۲۲۰ : آه نام سید محمد تقی میاں صاحب ؟ صالح :