تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 253 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 253

کے رکن تھے جو چھ مخلصین پر شتمل تھی یعنی ایک تو بابا صاحب مرحوم کے قریبی عزیز میاں عبد العزیز صات مرحوم اور منشی امام دین صاحب مرحوم اور دوسرے سیکھوائی متصل قادیان کے تین مشہور و معروف بھائی یعنی میاں جمال الدین صاحب مرحوم اور میاں امام الدین صاحب مرحوم اور میاں خیر دین صاحب مرحوم ان چھ بزرگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر اوائل زمانہ ہی میں سبعیت کی اور پھر آخر تک بیعت کے عہد کو نہایت اخلاص اور استقلال کے ساتھ نبھایا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ میں ان کا قادیان میں آنا جانا بھی اکثر اکٹھا ہوا کرتا تھا۔ان میں سے میاں عبد العزیز صاحب مرحوم نے ایک رات قیام گورداسپور کے دوران میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیمار تھے حضور کی ایس رنگ۔۔۔میں خدمت کی اور ساری رات اس طرح جاگ کر کائی کہ بعد میں حضور نے ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا کا ہم پر کتنا فضل ہے کہ حضرت عیسی صلیب کے واقعہ پر اپنے حواریوں کو بارہانہ دعا کے لئے جگاتے تھے اور وہ پھر بھی بار بار سو جاتے تھے مگر ہم نے منشی عبد العزیز صاحب کو بار بار سونے کے لئے کیا مگر وہ پھر بھی اپنے اخلاص میں ایک منٹ کے لئے بھی انہیں سوئے اور ساری رات خدمت میں لگے رہے۔بہر حال بابا حسن محمد صاحب مرحوم جو مولوی رحمت علی صاحب مبلغ جاوا کے والد تھے اس مقدس شمش ممبر پارٹی کے رکن تھے جنہوں نے اوائل میں ہی احمدیت سے مشترون ہونے کی سعادت پائی اور پھر ان کی زندگی کا ہر نیا دن انہیں خدا سے قریب تر کرتا گیا۔افسوس کہ ایسے مخلص صحابیوں سے ہماری جماعت بڑی سرعت کے ساتھ محروم ہوتی جارہی ہے اور نئی پودمیں سے اکثر نے ابھی تک وہ دریں وفانہیں سیکھا جس کے بغیر طلائی جماعتیں دنیا پر چھا نہیں سکتیں۔با با حسن محمد صاحب نے قریباً اپنی ساری عمر و حفظ و نصیحت اور قرآن شریف پڑھنے پڑھانے میں گذاری اور ان کے وعظ کا طریق بھی ایسا دلکش ہوتا تھا کہ سننے والے دیہاتی لوگ اس سے بہت محظوظ ہوتے تھے اور فائدہ اٹھاتے تھے اور میرے خیال میں ان سے غالباً سینکڑوں عورتو اے نے قرآن شریف پڑھا اور دینی مسائل سیکھے ہوں گے حتی کہ جب وہ آخری ایام میں حضرت خلیفہ ایسے الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے چنیوٹ میں مقیم ہوئے تو کئی بغیر احمدی عورتیں بھی ان کے درس میں شامل ہوتی تھیں اور میں نے سنا ہے کہ وہ ان کی وفات پر اس طرح روتی تھیں میں طرح ایک نیک اور شفیق باپ کی موت پر سعادت مند بچے روتے ہیں لیکن غالبا با با صاحب مرحوم کا سب سے بڑا امتیاز یہ تھا کہ انہیں