تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 244 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 244

۲۳۹ حیات اور دنیا و آخرت کے نجات کا ذریعہ قرار دے کر بتا یا کہ توحید باری تعالیٰ اور رسول عربی صلے اللہ علیہ وسلم اور اللہ کی کتاب قرآن کریم ہی نجات آخرت کا وسیلہ ہے اور اس سے ہر شخص سرشار ہے۔ہمارا نامہ نگار لکھتا ہے کہ پاکستان کے پیر اور پیرزادے اگر ربوہ کے اجتماع میں ہوتے تو کافی سبق لیتے جہاں علماء اور فضلاء کا اجتماع عظیم تھا، جہاں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔اختلاف ہمارا بھی جماعت احمدیہ سے اتنا ہی ہے جتنا ہمارے پیروں اور سجادہ نشینوں اور پیر زادوں کا ہے لیکن حق بات حق ہے۔مرزا بشیر الدین محمود صاحب بھی اپنے مریدوں سے چندہ وصول کرتے ہیں لیکن وہ تعمیر پیر خرچ کرتے ہیں۔ربوہ میں دس ہزار کنال زمین خریدی ہے، سندھ میں محمود آباد سٹیٹ قائم کیا ہے۔اپنے مریدوں سے لیتے بھی ہیں لیکن پھر تکلیف میں ان کی امداد بھی کرتے ہیں۔کاش کہ ہمارے علماء، پیران ، سجادہ نشینان بھی ایسے ہی حالات پیدا کریں جو آج مرزا بشیر الدین صاحب محمود نے پیدا کئے ہیں نصیحت جہاں سے بھی ملے غنیمت ہے" (نامہ نگار) فصل ـ جلیل القدر صحاب كا انتقال ۱۳۲۹ / ۱۹۵۰ء میں متعدد بزرگ صحابه رحلت فرما گئے جن میں سے احسن کا تذکرہ ان فصل میں کیا جاتا ہے۔تاریخ وفات اار صلح ۱۳۹۵ مطابق -۱- مولوی رحمت اللہ صاحب نوری - ار جنوری ۱۹۵) آپ حضرت مهدی موعود علیہ السلام کے سرخ سیاہی کے شہرہ آفاق آسمانی نشان کے حامل بزرگ حضرت مولوی عبداللہ صاح این سنور ہی کے فرزند ارجمند تھے۔آپ ہجرت ۱۹۲۷ء کے بعد موضع ثابت شاہ متصل پنڈی بھٹیاں ضلع گوجرانوالہ میں تھے کہ پیغام اصل