تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 245
۲۴۰ آگیا نعش بذریعہ لاری ربوہ لائی گئی۔حضرت مصلح موعود منتظر رہے کہ کوئی اطلاع دے تو جنازہ پڑھائیں مگر افسوس مسجد میں اعلان تک کئے بغیر ان کی نماز جنازہ پڑھا دی گئی اور آپ سپر د خاک کر دئے گئے اور حضور انور جنازہ میں شرکت نہ فرما سکے۔ایک قدیم اور ممتاز صحابی کے لخت جگر کی نماز جنازہ کے بارے میں غفلت اور کوتاہی کا یہ ایسا افسوسناک مظاہرہ تھا کہ حضرت امیر المؤمنين المصلح الموعود نے اسے آئندہ نسلوں کی راہ نمائی کے لئے پوری جماعت کے سامنے رکھنا ضروری سمجھا چنانچہ حضور نے ۱۳ صلح ۱۳۳۵ کو خطبہ جمعہ کے شروع ہی میں اس نا قابل برداشت سانحہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :- پیشتر اس کے کہ میں خطبہ کے مضمون کی طرف توبہ کمروں میں اس امر یہ اظہا یہ افسوس کرنا چاہتا ہوں کہ پرسوں یہاں ایک پرانے صحابی کا جنازہ آیا جس کے والد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریتین صحابہ میں سے تھے اور آپ کے ایک بہت بڑے نشان کے حامل تھے لیکن یہاں کے کارکنوں نے ایسی بے اعتنائی اور غفلت برتی جو میرے نزدیک ایک نہایت شرمناک حد تک پہنچی ہوئی ہے۔جنازہ مہمان خانہ میں لایا گیا مگر کسی نے تکلیف گوارا نہ کی کہ وہ اس کی طرف توجہ کرے اور نہ ہی اس جنازہ کا مسجد میں اعلان کیا گیا۔میں دوسرے دن دوپہر تک، انتظار کرتا رہا کہ کوئی مجھے اطلاع دے اور یکں نماز جنازہ پڑھاؤں لیکن کسی نے مجھے اطلاع نہ دی جب درد صاحب آئے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ جنازہ کسی نے پڑھا دیا ہے۔بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ میری طرف سے یہ کہ دیا گیا کہ میں بیمار ہوں اور جنازہ کے لئے باہر نہیں آسکتا اس لئے جنازہ پڑھا دیا جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں یکی بیمار تھا اور باہر نہیں آسکتا تھا لیکن جب وصیت کا کاغذ میرے پاس دستخط کے لئے آیا تو ان کے تعلقات کی وجہ سے جو ان کے والد صاحب کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تھے میں نے فیصلہ کیا کہ خود جنازہ پڑھاؤں مگر یونی کر دیا گیا کہ میں نے جنازہ پڑھانے کی اجازت دے دی ہے حالانکہ مجھے اطلاع ہی نہیں دی گئی ہیں کل دوپر تک انتظار کرتا رہا۔رات کو تو میں نے خیال کیا کہ مناسب نہیں سمجھا گیا کہ رات کو جنازہ پڑھا جائے او کل دوپہر تک میں نے سمجھا کہ رشتہ داروں کے آنے کی وجہ سے دیر ہو ہی جاتی ہے اس لئے شاید دیر ہو گئی ہو لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ جنازہ خود پڑھا دیا گیا ہے اور میری طرف سے یہ کہ دیا گیا کہ یکی میار ہوں، اس لئے جنازہ کے لئے باہر نہیں آسکتا جنازہ پڑھا دیا جائے۔لیکں نے یہ کیس ناظر صاحب اعلئے کے سپرد کر دیا ہے، اور تمام ایسے آدمیوں کو جنہوں نے یہ حرکت کی ہے سرزنش کی سجائے گئی خصوصا وصیت