تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 243 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 243

اسے نبی کا درجہ دیتے ہیں۔مسلمانوں کا جماعت احمدیہ سے صرف ایک اختلاف ہے کہ وہ مرزا صاحب کو صرف اتنی ہی خیال کریں دوسرے اختلافات مثلاً پولٹیکل عقیدوں کے متعلق یا جہاد کے متعلق تھے تو اس کا بھی پاکستان کے قیام میں جہانداری اور جہانبانی کی ذمہ داری نے اعتدال پسندانہ رویہ اختیار کر لیا ہے اور پاکستانی مسلمانوں کے ہر فرقے کا مرکز اب لندن، امریکہ ، لیکن گراڈ، برلن اور ٹوکیو نہیں رہا بلکہ اب کراچی ہے۔جنگ اور صلح زندگی کے عظیم، انشان نصب العین میں سے ہے اور جنگ اور صلح کو چاہیے کوئی مذہبی نقطۂ نظر سے حمل کرے یا اس کو دینی اور دنیاوی جد و جہد قرار دے مقصد ایک ہی بنتا ہے۔جناب مرزا بشیر الدین صاحب محمود نے اپنی وسطی اور اختتامی تقریر مورخہ ۲۷ دسمبر بروز بدھ اور ۲۸ دسمبر نشه بروز جمعرات ہیں صاف فرما دیا کہ ہمارا نصب العین اسلام ہے۔جماعت احمدیہ اسلام کے لئے زندہ رہے گی اور اسلام ہی کے لئے مرے گی۔جماعت احمدیہ کا دستور العمل قرآن کریم ہے جس نے ہر وقت اور ہر زمانے میں انسان کی راہ نمائی کی ہے اور انسان نے اس کتاب الہی سے اپنے لئے مقام انسانیت اور فلاح و بہبود کا راستہ متعین کیا۔اسلام تمام دنیا پر غالب رہا ہے اور غالب رہے گا حضرت رسول کریم محمد رسول اللہ صلعم سب نبیوں کے امام و پیشوا ہیں اور نسل انسانی کے سب سے بڑے خیر خواہ اور مختار حیثیت کے نبی اور رسول ہیں۔مرزا بشیر الدین صاحب کی تقریر میں درد تھا وہ درد جو کسی پشتی پیر کے حلقہ قوالی میں کبھی نہیں ہو سکتا۔آج ہمارے پیروں اور سجادہ نشینوں کو سبق حاصل کرنا چاہیئے کہ ان کے گردونشیں میں قوال ہی قوال رہتے ہیں لیکن مرزا بشیر الدین صاحب نے فعالوں کا گر وہ پیش کیا ہے۔حضرت جناب ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب سابق مبلغ انگلینڈ و ا مریکہ ، جناب پروفیسر قاضی محمد سالم صاحب ایم۔اے ، جناب مولا نا عبد المنان صاحب ایم۔اے ، جناب قاضی محمد نذیر صاحب لائل پوری، جناب مولوی عبد الغفور صاحب ، جناب چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ سابق امام مسجد لنڈن، صاحبزادہ مرزا نا عمر احد صاحب ایم۔اسے ، جناب ملک عبد الرحمن صاحب خادم، جناب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب، جناب مولوی ابو العطا صاحب فاضل پرنسپل جامعہ احمدیہ جناب خواجه جلال الدین صاحب شمس فاضل سابق امام مسجد احمد یہ لندن، جناب مولوی رحمت علی صاحب فاضل مبلغ انڈونیشیا جن کی ہر تقریر اور ہر لفظ اور ہر مباحث میں انسانوں کو انسان اور انسانیت میں درسی