تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 242
۳۳۷ کے لئے یہ شرارتیں کروائی جارہی ہیں اور یہ پراپیگنڈا کر وایا جارہا ہے کہ ضلع گورداسپور کا پاکستان سے الگ ہونا احمدیوں کی وجہ سے تھا۔حالانکہ ہم نے میمورنڈم صرف اس لئے پیش کیا تھا کہ احراری چونکہ ہمیں مسلمانوں سے خارج سمجھتے تھے۔اس لئے تم ہمیں سلم سمجھ یا غیرمسلم ہم ہر حال پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور ہم مسلم لیگ کے ساتھ ہیں، لہ (سرحد) خبار تنظیم پورمیں سالانہرو کی رپورٹ اور سرور کے ہفت روزہ اخبار کی اشاعت میں اس جلسہ کی حسب ذیل الفاظ میں رپورٹ شائع کی :- تعلیم نے اپنی کار مجنوری 1 زبور شریف میں سلم جماعت احمدیکا اٹھواں سالانہ اجلاس نشاه ۲۶ دسمبرنامه بروز نکاح حضرت امیر امام جاوید جناب ابشیرالدین محمون انفتاح فرایا علماء کرام اور مبلغین جماعت احمدیہ کی حالات حاضرہ پر قرآن و احادیث فقہ و تاریخ کے مطابق اسلامی شعور ذہن و شکر کے اعتبار سے موثر تقریریں و مواعظ ! پشاور - ۲۵ دسمبر کو شام کی گاڑی سے تنظیم کے نامہ نگار خصوصی زبوہ روانہ ہوئے اور ہر کو پہلے اجلاک میں شامل ہوئے مندرجہ حالات ہمارے نامہ نگار کے چشم دید اور اپنی قلم سے لکھے ہوئے ہیں میں پر خار تعلیم ہر طرح سے اعتماد رکھتا ہے۔پنڈال میں اسی ہزارہ (۸۰۰۰۰) نفوس کے لئے انتظام تھا اور یہ شخص پور کی ذمہ داری سے اہل اس کے ٹائم میں اپنی نشست پر پہنچ جاتا تھا۔جماعت احمدیہ کے امام نے پہلے روز نینی ۲۶ دسمبر سر بروز منگل تلاوت قرآن اور حمد و نعت کے ساتھ اجلاس کا افتتاح فرمایا۔اس وقت عجیب کیفیت تھی اور ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ اس زمانے کے محمود نے اپنے لئے کئی ہزار ایاز پیدا کرلئے ہیں اور یہ نہیں ہو رہا تھا کہ مستقبل میں کفر و شرک کے سومنات کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے نبوت کا دھونے کیا ہے اور اس کے عقیدت مند پیغمبر آخر زمان کی امت میلی له الفضل ٣٠ تبوك / ستمبر ۱۹۷۴ ۲ تا ۲