تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 241
۲۳۶ نہ ہو تا تب بھی احمدیوں کے نکالنے سے مسلمان اقلیت میں آجاتے تھے ہیں احمدیوں سے میمورنڈم پیش کروانا مسلمانوں کے مفاد کے لئے نہایت ضروری تھا اور لیگ نے جو فیصلہ کیا وہ با لکل درست تھا۔دوسری بات یہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ فیصلہ کے مطابق وقت صرف مسلم لیگ اور کانگریس کو ملا تھا۔اگر مسلم لیگ ہمیں اجازت نہ دیتی تو احدی میمورنڈم پیش ہی نہیں ہو سکتا تھا۔خان افتخار حسین صاحب آف ممدوٹ ، خواجہ عبدالرحیم صاحب سابق کمشنر ، چوہدری اکبر علی صاحب اور دوسرے سلم لیگی لیڈر اس بات کے گواہ ہیں کہ وقت صرف مسلم لیگ کو دیا گیا تھا ہمیں براہ راست وقت نہیں ملا بلکہ مسلم لیگ نے اپنے وقت میں سے ہمیں کچھ وقت دیا ورنہ ہم الگ محضر پیش ہی نہیں کر سکتے تھے۔پھر کمیشن کے دونو سلمان جج جسٹس محمد منیر اور سابق جسٹس و حال گورنرسندھ ہر ایکسی لینسی شیخ دین محمد صاحب بھی اس کے گواہ ہیں، ان لوگوں کو معلوم ہے کہ اس میمورنڈم کے پیش کرنے میں برابر ان مسلم جوں سے مشورہ کیا جاتا رہا کیونکہ ان حجوں کے متعلق فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہ قوم کے نمائندے ہیں، نہیں خود مسٹر جسٹس منیر کی کوٹھی پر گیا ہز ایکسی لینسی شیخ دین محمد صاحب گورنرسندھ بھی وہاں آگئے تھے۔اسی طرح چوہدری نذیر احمد صاحب ممبرسروس کمیشن بھی اتفاقا آگئے تھے میرے ساتھ شیخ بشیر احمد صاحب اور درد صاحب بھی تھے ہم نے اس میمورنڈم پر قانونی طور پر ویس کس (DISCUSS ) کی اور اس کی کا پہیاں ہم نے ان میں سے اکثر کو الگ بھی دے دی تھیں پس یہ سوال نہیں کہ ہم نے مسلم لیگ سے الگ محضر پیش کیوں کیا بلکہ سوال یہ ہے کہ الگ محضر پیش کرایا گیا اور اس کی وجہ میں بتا چکا ہوں کہ احرار کی یہ شرارت تھی کہ احمدی مسلمان نہیں اور اس کا انہوں نے پراپیگینڈا کیا ہوا تھا۔اگر ہم علیحدہ پیش نہ ہوتے تو ریڈ کلف کو ادھر ادھر کے بہانے بنانے کی ضرورت ہی نہ تھی وہ احراریوں کا اپنا فتویٰ پیش کر کے کہہ سکتا تھا کہ چونکہ احمدی مسلمان نہیں اس لئے ان کو نکال دیا جائے تو مسلم آبادی ۲۵ فیصد رہ جاتی ہے اس لئے یہ ضلع بسند دوستان میں شامل ہونا چاہیئے۔اس میمورنڈم کوکر پیش کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ ریڈ کلمات کو اور بہانے تلاش کرنے پڑے جن کی وجہ سے ہم آج تک انگریزوں کو بدنام کر رہے ہیں۔اُس وقت مسلم لیگ احراز یوں کی شرارت کو بھانپ گئی اور اس نے دھوکہ نہیں کھایا۔اب انگریزوں کے پاس اس فیصلہ کو درست ثابت کرنے کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں۔چنانچہ جب کوئی انگریز ہمارے پاس آتا ہے وہ شرمندہ ہو جاتا ہے۔ان لوگوں کے ہندوستان سے تعلقات ہیں، مہند داستان کو پاکستان کے مقابلہ میں جو ر کا پہنچی اس کا اثر زائل کرنے