تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 220 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 220

۲۱۵ الغرض قافلہ روانہ ہو گیا اور قادیان اور اس کے درویش آنکھوں سے اوجھل ہو گئے حتی کہ ہر عبور کرتے ہوئے قادیان کی آخری جھلک یعنی منارة امسیح بھی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔سوا بارہ بجے قافلہ بٹالہ کی سڑکوں کو عبور کر رہا تھا اور دو بجے امرتسر سے گذرتا ہو اسرحد پر پہنچ چکا تھا۔چار پانچ درویش سرحد تک چھوڑنے کے لئے آئے۔اس جگہ ہر و عصر کی نمازیں باجماعت ادا کی گئیں۔چار بجے انڈین کسٹم آفس کے ارکان نے ہمارے سامان کی تلاشی لینا شروع کی۔یہ تلاشی کتنی کڑی تھی اور کتنی صبر آزما اس سلسلہ میں امیر قافلہ کا بیان انہی دنوں اخبارات میں بھی شائع ہو گیا تھا۔مختصر یہ کہ دلوں کے قافلہ سرحد پر پہنچا اور ساڑھے پانچ بجے تک مشکل ایک لیس کی مکمل اور دوسری بیس کی ادھوری تلاشی ختم کی گئی اور ر اس امر کا سخت خطرہ پیدا ہو گیا کہ شاید قافلہ کو رات سرحد پر ہی گزارنی پڑے کیونکہ دونوں ملکوں کے سرحدی پھاٹک ساڑھے پانچ بجے داخلہ کے لئے بند ہو جاتے ہیں۔آخر امر تسر کے ڈی سی صاحب کی مداخلت سے یہ کٹھن مرحلہ کسی نہ کسی طرح ختم ہوا لیکن اس وقت دونوں طرف کے سرحدی پھاٹک داخلہ کے لئے بند ہو چکے تھے اور مغرب کا وقت ہو رہا تھا۔آخر دو گھنٹہ کی خاص کوشش کے بعد یہ مرحلہ بھی طے ہوا اور رات کے آٹھ بجے قافلہ پاکستان کی سرحد میں داخل ہوا ہے: فصل چهارم کوائف کوه ه۱۳۲۹ ۱۹۵۰ اگر چہ دونوں مراکز احمدیت میں ترقیات کا سلسلہ متوازی شکل میں جاری رہا مگر ربوہ کی وادی غیر ذی زرع کی رفتار ترقی نسبتا زیادہ تیز رہی اور ہر لحاظ سے اس کی اہمیت و شہرت میں اضافہ ہوا۔ربوہ با قاعدہ کمیشن بن گیا امامان هم تکرار ما را نشان میں رات والیان ریلوے ر مارچ کے ایک خاص گزٹ کے ذریعہ ربوہ کو باقاعدہ اسٹیشن بنا دیا گیا ہے ه افضل اور جنوری ۱۹۵۱ مرمت به ۱۲ افضل ۲۳۴۲ مارچ ۱۹۵ ه ص۔܀