تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 216 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 216

ایڈووکیٹ کی سرکردگی میں گروپ فوٹو کھنچوائی پھر مقبر بہشتی میں اجتماعی دعا کی میسجد اقصی میں نوافل ادا کئے اور ساڑھے نو بجے مقامی پولیس کے انتظام کے ماتحت محلہ دار الانوار، دار البرکات، دار الفضل، دار الرحمت اور دار الفتوح کی مساجد کے علاوہ تعلیم الاسلام کالج اورمسجد نور میں جاکر بڑی رقمت اور در کے ساتھ اجتماعی دعا کی تعلیم الاسلام ہائی سکول اور نور ہسپتال میں سے ہوتے ہوئے بڑے بازار کی طرف سے واپس دار سیج آئے۔مورخہ ۲۹ ماہ فتح (دسمبر) کونماز جمعہ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے باغ کے اس مخصوص حصہ میں جہاں حضور علیہ السلام کا جنازہ پڑھا گیا تھا اور جو حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کی سعی او نگرانی میں اس حصہ کی حد بندی کر کے اسے باقی جگہ سے علیحدہ کر دیا گیا تھا ) حیدر آباد کے نہایت مخلص خاورم سلسلہ حضرت سیٹھ محمد غوث صاحب کا جنازہ حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل امیر جماعت مقامی نے پڑھا۔حضرت سیٹھ صاحب موصوف کا ۲۸ فروری ۱۹۹۴ئر کو حیدر آباد میں انتقال ہوا تھا اور آپ کو وہیں امانتاً دفن کر دیا گیا تھا۔اس جلسہ کے موقع پر آپ کے فرزند سیٹھ محمد اعظم صاحب نے آپکا تابوت حیدر آباد سے دارا نامان لائے۔حضرت سیٹھ صاحب اگر چہ صحابی نہیں تھے لیکن اپنی شاندار خدمات سلسلہ کی وجہ سے حضرت مصلح موعود کی اجازت پر مقبرہ بہشتی کے قطعہ صحابہ میں دفن کئے گئے۔جنازہ سے قبل مؤرخ احمدیت حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نہ نے پرنم آنکھوں کے ساتھ احباب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :- اس وقت میری آنکھوں کے سامنے ، ہر مئی شائر کا دن ہے جبکہ ٹھیک اسی میدان میں ہمارے آقا اور محسن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جنازہ رکھا گیا تھا اور یہی وہ میدان تھا جس میں ہم نے خلافت اولی کی بیعت کی تھی۔وہ بیعت اسی امری کی تھی کہ ہم خلیفہ وقت کو واجب الاطاعت امام سمجھتے ہیں۔حضرت سیٹھ محمد غوث گذشته ۴۲ سال میں وہ پہلے خوش قسمت انسان ہیں جن کا جنازہ ٹھیک اس جگہ اور اسی حلقہ میں پڑھا جارہا ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جسم اطہر رکھا گیا تھا اور جنازہ پڑھا گیا تھا۔خدا تعالیٰ کے بے شمار فضل ہوں محترم بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی پر جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس حلقہ زمین کو محدود کرنے کی توفیق دی۔لیکن اس امر کی تصدیق کرتا ہوں کہ ٹھیک اسی جگہ حضور علیہ السلام کا ه ۱۹ مارت ۱۹۶۳ء کو سیٹھ صاحب ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور اب ربوہ میں رہائش پذیر ہیں ؟