تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 215 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 215

۲۱۰ محمد سرور شاہ صاحبہ کے مکان میں جلسے کی تقاریر سننے کا انتظام کیاگیا تھا جہاں پر لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ آواز بخوبی پہنچتی تھی۔مہمانوں کے قیام و طعام اور جلسہ کے دیگر تمام انتظامات سر انجام دینے کی معاودت دیار حبیب کے خوش قسمت درویشوں نے حاصل کر رکھی تھی جلسہ کے منتظم اعلیٰ صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ناظر دعوۃ و تبلیغ اور آپ کے نائب مولوی عبد القادر صاحب دہلوی جنرل پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ قادیان تھے۔ان کے ماتحت قریباً تمام درویش بھائی اپنی اپنی ڈیوٹی بڑی تندہی سے سرانجام دے رہے تھے بہت سے ایسے درویش تھے جنہیں سالہا سال کے بعد اسی موقع پر اپنے کسی عزیز یا بزرگ سے ملنے کا موقع ملاتھا اور وہ بھی نہایت محدود وقت کے لئے لیکن وہ اس عرصہ میں بھی اپنے ذاتی جذبات اور تعلقات کو قربان کرکے جلسہ کے سلسلہ میں اپنے فرائض سر انجام دینے میں مصروف نظر آتے تھے اور ر اس طرح اپنے عمل سے ثابت کر رہے تھے کہ وہ فی الحقیقت تمام دنیوی تعلقات اور علائق سے منہ موڑ کر اپنے تئیں خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر چکے ہیں۔ہندوستان سے تشریف لانے والے اکثر دوست مدرسہ احمدیہ اور یور ڈنگ مدرسہ احمدیہ کے کمروں میں رہائش رکھتے تھے جلسہ کی تصاویر لینے کی خدمت میاں منور علی صاحب درویش (پروپرائٹر علی سٹوڈیو) اور چوہدری انور احمد صاحب کا ہلوں امیر جماعت احمدیہ کلکتہ سر انجام دیتے رہے۔۲۷ فتح (دسمبر) کی رات کو مسجد اقصی میں محترم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور کی صدارت میں ایک تربیتی جلسہ ہوا جس میں حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی، مولوی محمد سلیم صاحب مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ اور چوہدری محمد عبد اللہ خان صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی نے مختلف تربیتی امور پر تقاریر فرمائیں۔جلسہ مجھے بعد حضرت مولوی راجیکی صاحب نے اجتماعی دعا کرائی اور دعا کے بعد اپنا یہ کشف بیان فرمایا کہ جب دعا شروع ہوئی تو سید نا حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام بھی عالم کشف میں مسجد میں تشریف لائے اور دعا میں شامل ہوئے (الحمد للہ) مورخه ۲۹ فتح ( دسمبر) بروز جمعہ میجر جنرل عبد الرحمن صاحب ڈپٹی ہائی کمشنر پاکستان تعینہ جالندھر قادیان تشریف لائے، پاکستانی زائرین کی طرف سے شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ نے آپ کا خیر مقدم کیا۔بورڈنگ مدرسہ احمدیہ میں آپ نے پاکستانی زائرین سے ملاقات فرمائی۔شام کو آپ واپس تشریف لے گئے۔۲۹ فتح (دسمبر کی صبح کو پاکستان سے جانے والے احباب نے اپنے امیر شیخ بشیر احمد صاحب