تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 201
۱۹۶ باہر نکل آتے ہیں پھر دیکھیں گے کہ کس کی کوشش کے نتیجہ میں اسلام پھیلتا ہے لیکن اس چلینج کا جواب موصول نہیں ہوا۔اگر ان کے پاس سچائی ہے تو وہ میدان میں کیوں نہیں آتے۔یہ سیدھی بات ہے کہ جو لوگ ہماری مخالفت کرتے ہیں اور عشق رسول کا دعوی کرتے ہیں وہ بھی اسلام کی اشاعت کے لئے باہر نکل کھڑے ہوں ہم بھی باہر نکلتے ہیں اگر ہم جھوٹے ہیں تب بھی اسلام کے لئے ہر حال یہ طریق مفید ہو گا اور دنیا کو پتہ لگ جائے گا کہ اسلام کے لئے اور محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے لئے کون قربانی کرتا ہے اور محض زبانی دعووں پر کون اکتفاء کرتا ہے لیکن ہوتا کیا ہے کہ بجائے اس کے کہ یہ لوگ میرا چیلنج قبول کرتے ہمارے خلاف جلسے کرتے ہیں اور تقریروں میں یہ فتویٰ صادر کرتے ہیں کہ احمدیوں کی چائے شراب سے بھی بدتر ہے شراب پی جا سکتی ہے لیکن ان کی چائے پینا جائز نہیں۔ان کا پکا ہوا گوشت خنزیر کے گوشت سے بھی بدتر ہے تم سور کا گوشت کھا لو لیکن ان کا پکا ہوا گوشت نہ کھانا کیا ان فتووں سے محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم اور اسلام کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اسلام کو بدہ پہنچ سکتا ہے تو اس طرح کہ میرا مبلغ اگر دن مسلمان بناتا ہے تو یہ بنیں مسلمان بنائیں۔میرا مبلغ اگر ایک روٹی کھا کر گزارہ کرتا ہے تو یہ آدھی روٹی کھائیں۔اگر وہ ایسا کریں تو کیا میری آنکھیں کھل نہ جائیں گی۔یہ کتنا بڑا نشان ہو گا تمہاری صداقت کا اور اس سے اسلام کو کتنا بڑافائدہ پہنے گا ہماری لڑائی بھی ختم ہو جائے گی اور مقابلہ بھی ہو جائے گا۔مثلاً یہ تو مقابلہ ہوگا کہ دریا کا بند ٹوٹ جائے تو کون دریا کا بند باندھتا ہے۔یہ خدمت خلق کا کام ہے لیکن اگر ہم بند بنانے سے پہلے آپس میں لڑ پڑتے ہیں اور لوگ پانی کی زدمیں آکر تباہ و برباد ہو جائیں تو کیا یہ خدمت خلق ہوگی۔فرض اگر یہ لوگ اپنے دعووں میں سچے ہیں تو یہ بھی تبلیغ کے لئے باہر نکل جائیں اور ہم بھی تبلیغ کے لئے باہر جاتے ہیں پھر جو فریق جیت جائے گا اسے حق ہو گا کہ وہ معاہدے کو جھوٹا کہہ سکے اور لوگ بھی سمجھے لیں گے کہ کون جیتا اور کون ہارا اور اس سے اسلام کو بھی فائدہ پہنچے گا لیکن مارنے، گالیاں دینے اور اس قسم کے فتوے دینے میں کیا رکھا ہے۔کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو پتھر نہیں پڑھتے تھے۔ایک دفعہ مولوی شاد الشر صاحب قادیان آئے اور انہوں نے ایک لیکچر دیا اور لوگوں کے سامنے یہ بات پیش کی کہ میاں محمود احمد بھی کل نہ جائیں اور کی بھی کلکتہ جاتا ہوں پھر دیکھیں گے کہ کس پر پتھر پڑتے ہیں اور کس پر پھول برستے ہیں بلکہ اس چیز کا پتہ امرتسر کے اسٹیش پرزہ لگ جائے گا۔لوگ اس بات کوئی کر نعرہ ہائے تکبیر بلند کرنے لگے