تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 202 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 202

196 ان کی اس بات کا جواب میں نے اسی دن عصر کے وقت دیا کہ مولوی صاحب نے خود ہی اس جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ہے مجھے اب کسی دلیل کی ضرورت نہیں مولوی صاحب نے کہا ہے کہ کلکتہ تک جا کر ہم دیکھتے ہیں کہ پتھر کس کو پڑتے ہیں اور پھول کسی پر برسائے جاتے ہیں۔آپ عالم آدمی ہیں احادیث نکال کر دیکھیں کہ مگر والے پتھر کیس کو مارتے تھے اور پھول کس پر پھینکتے تھے اگر پتھر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو پڑتے تھے اور پھول ابو جہل پر پھینکے جاتے تھے تو میں سچا اویہ جھوٹے لیکن اگر پھول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرپھینکے جاتے تھے اور پتھر ابو جہل کو مارے جاتے تھے تو میں جھوٹا اور یہ بیچے۔رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم جب تبلیغ کے لئے طائف تشریف لے گئے تو طائف والوں نے لڑکوں کو اکسایا انہوں نے آپ پر پتھر پھینکنے شروع کر دئے آپ وہاں سے چلے آئے اور رستہ میں ایک باغ میں پناہ گورین ہوئے۔آپ کے ساتھ حضرت زید بھی تھے اور وہ بھی زخمی تھے۔آپ کے پاؤں سے لہو بہ رہا تھا۔وہ بارغ اتفاقاً آپ کے ایک شدید دشمن کا تھا مگر ہمیں زراعت نہیں ہوتی تھی اس لئے بعض لوگوں نے مکہ سے با ہر زمین خرید کہ باغات لگائے ہوئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ کے کنارے پر بیٹھ گئے اس لئے کہ اگر آپ اس کے اندر گئے تو باغ کا مالک کیا کہے گا۔ایسے موقع پر ایک شدید سے شدید دشمن میں بھی شرافت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے جب اس باغ کے مالک نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی حضرت زید کی یہ حالت دیکھی تو اس نے کہا ان پر ظلم ہوا ہے خود تو اسے جرات نہ ہوئی اس نے اپنے ایک غلام کو جو نینوا شہر کا رہنے والاتھا حکم دیا کہ ان کو اچھے اچھے انگور کھلاؤ وہ غلام انگور لے کر آپ کے پاس گیا اس نے جب آپ کو سر سے پاؤں تک زخمی دیکھا تو وہ حیران ہوا اور آپ سے دریافت کرنے لگا کہ ایسا کیوں ہوا۔آپ نے فرمایا لیکن لوگوں سے کہتا ہوں کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور وہ مجھے مارتے ہیں۔وہ غلام عیسائی تھا جب اس نے آپ سے تمام قصہ سناتو عیسائیت کی یاد اُس کے دل میں پھر تازہ ہو گئی اس نے محسوس کیا کہ اس کے سامنے خدا کا ایک نہی بیٹھا ہے تھوڑی دیر کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام سے کہا اسے میرے بھائی یونس بن متی کے بیٹے یکس تمہیں خدا تعالیٰ کی کچھ باتیں سنانا چاہتا ہوں چنا نچہ آپ نے اسے تبلیغ شروع کی اور تھوڑی ہی دیریں وہ اجنبی غلام آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گیا اور آپکے سرا ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دینے لگا باغ کے مالک نے پہلے تو تر می کھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسل