تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 200
۱۹۵ پھر بھی جو آپ بار بار مشورہ طلب فرما رہے ہیں تو شاید آپ کی مراد ہم باشندگان مدینہ سے ہے۔آپ نے فرمایا ہاں۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ شاید آپ اس لئے ہمارا مشورہ طلب کر رہے ہیں کہ آپکے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہمارے اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ اگر مدینہ میں آپ پر اور مہاجرین پر کسی نے حملہ کیا تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے لیکن اگر مدینہ کے باہر کوئی لڑائی ہوئی تو ہم اس میں حصہ لینے کے پابند نہیں ہوں گے۔آپؐ نے فرمایا ٹھیک ہے۔اس نے کہا یا رسول اللہ جس وقت وہ معاہدہ ہوا تھا ہم پر آپ کی حقیقت پورے طور پر روشن نہ ہوئی تھی لیکن اب جبکہ ہم نے آپ کے معجزات اور نشانات دیکھ لئے ہیں ہم پر آپ کا مرتبہ اور آپ کی شان پورے طور پر ظاہر ہو چکی ہے یا رسول اللہ اب اس معاہدہ کا کوئی سوال نہیں ہم موسیٰ کے ساتھیوں کی طرح آپ سے یہ نہیں کہیں گے کہ فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا اِنَّاهُهُنَا فَاعِدُون که جاتو اور تیرا رب اپنے دشمنوں سے جنگ کرتے پھرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور بار سول اللہ دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ آئے۔یا رسول اللہ جنگ تو ایک معمولی بات ہے یہاں سے تھوڑے فاصلہ پر سمند ر ہے آپ تمھیں حکم دیجئے کہ سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دو اور ہم با در این کند میں اپنے گھوڑے ڈال دیں گے۔یہ کتنا بڑا تغیر ہے جو اسلام میں داخل ہونے کے بعد صحابہ کے اندر پیدا ہو گیا۔پسی حقیقت یہی ہے کہ لوگ احمدیت سے ناواقف ہیں انہیں یہ معلوم نہیں کہ خدا تعالے نے ان پر کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ اس تاریک زمانہ میں اس نے اپنا ایک مامور بھیجاتا وہ اسلام کو باقی ادیان پر غالب کر دے۔ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو کہ ہم کا فر ہی سہی مان لیا ہم قرآن کریم کے منکر ہیں، رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہیں لیکن یہ تو بتاؤ کہ ہم نے امریکہ او لنڈن میں مسجدیں بنائی ہیں کیا مسجدین کا فر بناتے ہیں۔پھر یہ بتاؤ کہ دوسرے فرقوں کے نوجوان ہو و لعب میں اپنا وقت بسر کر رہے ہیں لیکن ہمارے نوجوان اپنی زندگیاں وقف کر کے محض خدا کی خاطر باہر نکل گئے ہیں اور وہ کافروں کو مسلمان بنارہے ہیں۔کیا یہ کام کا فر کرتے ہیں۔یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا صرف کا فرکو ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ہے مومن کو آپ سے عشق نہیں لیکنی نے ایک دفعہ احرار کو یہ چیلنج دیا تا کہ تم بھی تبلیغ کی غرض سے باہر نکل کھڑے ہو اور ہم بھی تبلیغ کے لئے المائده : ۲۴