تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 199 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 199

۱۹۴ آپ سے دو سال بڑے تھے اور دل سے آپ پر ایمان لے آئے تھے جب وہ لوگ بیعت کر چکے تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس بستی نے آپ کو قبول نہیں کیا آپ ہماری بستی میں آجائیں۔حضرت عباس نے کہا یہ آسان بات نہیں مگے والوں کو پتہ لگا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے ہیں ت وہ مدینہ پر حملہ کر دیں گے تم پہلے سوچ سمجھ لو یہ نہ ہو کہ پر مقابلہ سے گریز کرو۔انہوں نے کہا ہم نے خوب سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے ہم ہر حال رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے جانا چاہتے ہیں حضرت عباس نے کہا اچھا معاہدہ کر لو چنا نچہ ایک معاہدہ ہوا کہ اگر مدینہ میں آپ پر یا مهاجرین پر کسی نے حملہ کیا تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے لیکن اگر مدینہ کے باہر کوئی لڑائی ہوئی تو ہم مانعت کے مزار نہیں ہوں گے کیونکہ سارے عرب سے لڑائی مول لینا ہمارے بس کی بات نہیں۔اتنے میں کیسی نے کفار مکہ کو یہ خبر دے دی کہ مدینہ سے ایک قافلہ آیا ہے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر رہا ہے ان کا جلد کوئی انتظام ہونا چاہیے۔رسول کریم صل اللہ علیہ و سلم کو بھی یہ بات پہنچ گئی اور آپ نے خیال کیا ایسا نہ ہو وہ مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچائیں اس لئے آپؐ نے فرمایا اب گفت گو ختم کر دینا چاہیئے اور یہاں سے پہلے جانا چاہیئے لیکن مدینہ والے اب ایمان لا چکے تھے اور موت ان کی نظروں میں حقیر ہو چکی تھی انہوں نے کہا ہم کمزور نہیں ہم بھی عرب میں اگر مشرکین مکہ نے کوئی نقصان پہنچانا چاہا تو ہم ان کا مقابلہ کریں گے اور آپؐ پر جو انہوں نے ظلم کئے ہیں ان کا بدا لینگے جب آپ مدینہ ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو یہ معاہدہ موجود تھا۔جب آپ جنگ بدر کے لئے باہر تشریف لے گئے اور خدا تعالیٰ نے الہا کا آپؐ کو یہ خبر دے دی کہ آپ کا مقابلہ قافلہ سے نہیں ہو گا بلکہ مکہ سے آنے والے شکر کے ساتھ ہو گا تو آپ نے اپنے ساتھیوں کے سامنے یہ سوال پیش کیا کہ اب قافلہ کا کوئی سوال نہیں صرف فوج ہی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اس پر ایک کے بعد دوسرا صابر کھڑا ہوا اور اس نے کہا یارسول اللہ جب ہم مدینہ سے لڑائی کے لئے نکلے ہیں تو بہر حال ہمیں لڑائی سے بھاگنا نہیں چاہیے۔یا رسول اللہ اگر دشمن ہمارے گھروں پر چڑھ آیا ہے تو ہم اس سے ڈرتے نہیں ہم اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ہر ایک کا جواب شنکر آپ یہی فرماتے لوگو مجھے مشورہ دو لوگو مجھے مشورہ دو۔مدینہ کے لوگ اس وقت تک خاموش تھے جب رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے مگر