تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 198
١٩٣ ہنگ کی۔ایک شخص نے تمہارے سامنے یہ کہا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئی اور خدا تعالیٰ نے مجھے یوں کہنا ہے لیکن تم نے اس کی بات کو بغور سنا نہیں اور اسے رہ کر دیا۔ایک شخص اگر ایسی بات کہتا ہے اور تخم سمجھے ہو کہ یہ محض افتراء ہے تو تم اسے سمجھا دو کہ میاں یہ بات درست نہیں لیکن اس کی بات من او کیونکہ اگر تم اس کی بات سنتے ہی نہیں تو خدا تعالیٰ کے سامنے کیا جواب دو گے کہ اسے میں نے کیوں رد کر دیا تھا۔محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم جب وعظ فرمایا کرتے تھے تو مکہ والوں نے لوگوں کو یہ کھا دیا تھا کہ جب یہ وعظ کریں تو تم وہاں سے بھاگ جاؤ، کانوں میں انگلیاں ڈال لو اور اس کی بات نہ سنو۔تیر کا سال تک آپ نے تبلیغ کی اور مصائب اور تکالیف کا مقابلہ کیا۔ایک دفعہ حج کے موقع پر جب لوگ کثرت سے مکہ میں جمع ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں کچھ آدمیوں کو کھڑا دیکھتے نہیں تبلیغ کرنے لگ جاتے بعض لوگ آپؐ کی بات سنتے اور حیرت کا اظہار کر کے علیحدہ ہو جاتے اور بعض باتیں سن رہے ہوتے تو ملنے والے ان کو ہٹا دیتے اور بعض جو مکہ والوں سے آپ کی باتیں شئن چھکے ہوتے وہ ہنسی انٹرا کہ آپ سے جُدا ہو جاتے۔اس دوران آپ کی نظر مدینہ کے سات افراد پر پڑی مکہ والے اردگر د بھاگتے پھرتے تھے اور جس طرح یہ مولوی کہتے ہیں کہ احمدیوں کی چائے شراب سے بدتر ہے وہ بھی لوگوں کو آپؐ کے خلاف بہکاتے تھے اور آپ کی باتیں سننے سے منع کرتے تھے سب لوگوں نے آپ کو رد کر دیا لیکن جب آپ مدینہ والوں کے پاس گئے تو انہوں نے آپ کی باتیں سننے پر آمادگی کا اظہار کیا۔انہوں نے آپ کی باتیں سنیں اور متاثر ہوئے اور کہا اس سال ہم تھوڑی تعداد میں آئے ہیں اگلے سال ہم زیادہ تعداد میں آئیں گے اور آپ کی باتیں سنیں گے چنانچہ اگلے سال بارہ آدمی آئے آئین کی باتیں اُن کے دلوں میں گھر کر گئیں اور وہ آپ کی بیعت کرکے واپس چلے گئے اور اگلے سال اس سے زیادہ تعداد میں آنے کا وعدہ کیا۔چنانچہ اگلے سال ایک بڑا قافلہ آیا جس میں عورتیں اور بچے بھی تھے لیکن مخالفت کا اتنا جوش تھا کہ مشرکین مکہ لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں سننے دیتے تھے اس لئے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے وادی عقبہ میں مدینہ سے آنے والوں سے رات کے بارہ بجے ملاقات فرمائی۔مدینہ والوں نے جب آپ کی باتیں سنیں تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے جو کچھ بیان کیا وہ سب ٹھیک ہے ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں چنانچہ آپ نے ان کی بیعت کی حضرت عباس کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ لے گئے تھے حضرت عباس