تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 187
TAF ہونے لگے تو آپ رو رہے تھے حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا باپ کیا آپ بھی روتے ہیں۔اگر آپ کفر کی حالت میں مرتے تب تو کوئی بات تھی خدا تعالیٰ نے آپ کو اسلام نصیب کیا اور اب تو آپ کے لئے بشارت ہی بشارت ہے۔حضرت عمرو بن عاص نے کہا بیٹا تمہیں معلوم نہیں اسلام کے ساتھ میری دو کیفیتیں رہی ہیں جب تک میں مسلمان نہیں ہوا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجھے اتنا بغض تھا اور اسلام کے ساتھ مجھے اتنی دشمنی تھی کہ میں نے کبھی آنکھ اٹھا کہ آپ کی شکل نہیں دیکھی تھی۔اگر میں اس وقت مرتا اور کوئی شخص مجھ سے یہ پوچھتا کہ آپ کی شکل کیا تھی تو میں آپ کی شکل نہ بتا سکتا۔پھر جب اسلام لایا تو مجھے آپ سے اتنا عشق پیدا ہوا اور میرے اندر آپ کی اس قدر محبت جاگزین ہوئی کہ میں آپ کے رعب کی وجہ سے آپ کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا۔اگر اب مجھ سے کوئی پوچھے کہ آپ کی شکل کیا تھی تو میں نہیں بتا سکتا۔کفر کی حالت میں تخت کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل نہ دیکھی اور اسلام کی حالت میں محبت اور عشق کی وجہ سے آپ کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اگر فوت ہو جاتا تو کوئی فکر نہ تھا لیکن آپ کی وفات کے بعد کئی غلطیاں مجھ سے سرزد ہو گئی ہیں میں نہیں جانتا ان غلطیوں کی وجہ سے قیامت کے دن بھی آپ کا دیدار نصیب ہو یا نہیں۔اور وہ یہ کہہ کر پھر رونے لگ گئے۔ہماری جماعت کے لوگ مخالفت سے گھبراتے اور غصہ میں آجاتے ہیں لیکن مخالفت کی وجہ سے گھرانے اور غصہ میں آجانے کی کوئی وجہ نہیں۔یہ لوگ مخالفت کیوں کرتے ہیں ؟ یہ لوگ اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہیں اور نعوذ باللہ آپ کو گالیاں دیتے اور اسلام کو بگاڑتے ہیں۔گویا وہ مخالفت رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کی محبت اور اس غلط فہمی کے نتیجہ میں کرتے ہیں کہ ہم اسلام کے دشمن ہیں ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں اور ساتھ ہی ساتھ تبلیغ کرنی چاہئیے۔آخر ہم ان کی غلط فہمیوں کو کیوں دور نہیں کرتے۔اگر ایک مولوی ہمارے متعلق یہ کہتا ہے کہ ہم حضرت امام حسین کی ہتک کرتے ہیں تو تم نے کیوں لوگوں کو یہ نہیں بتا یا کہ ہم حضرت امام حسین کی ہتک نہیں کرتے بلکہ ان کی تم سے بھی زیادہ عزت کرتے ہیں۔اگر تم نے انہیں یہ بتایا ہوتا کہ حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ کہا ہے 5