تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 183
۱۷ چنا نچہ گذشتہ جنگ کے اختتام پر ہی جب بعض سر کردہ جرمن لیڈروں پر مقدمہ چلایا گیا تو یہ کہاگیا کہ انہیں جنگ کے بدلہ میں نہیں بلکہ ان انسانیت سوز جرائم کے عوجن میں پھانسی پر لٹکایا جاتا ہے جو ان سے سرزد ہوئے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم نے بھی فتح مکہ کے بعد ان سات افراد کے متعلق یہ احکام جاری کئے کہ اگر یہ لوگ خانہ کعبہ کے پردوں کو پکڑ کر بھی کھڑے ہوں تب بھی انہیں قتل کر دیا جائے چنانچہ وہ لوگ مگر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ان سات افراد میں عکرمہ بھی تھا اس کی بیوی دل سے مسلمان ہو چکی تھی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا یارسول اللہ میں دل سے مسلمان ہوں میرا خاوند مکہ چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔وہ اسلام کا کتنا دشمن ہی ہی لیکن پھر بھی آپ کا بھائی ہے۔کیا یہ بہتر ہوگا کہ وہ کسی اور ملک میں جا کر کسی بغیر کے ماتحت رہے اور وہاں دھکے کھاتا پھرے یا یہ بہتر ہے کہ آپ اسے معاف کر دیں اور وہ آپ کے زیر سایہ زندگی بسر کرے۔آپنے فرمایا اچھا ہم اسے معاف کرتے ہیں وہ واپس آجائے ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے اس کی بیوی نے پھر عرض کیا۔یا رسول اللہ ! وہ بڑی غیرت والا شخص ہے اگر آپ یہ کہیں گے کہ و مسلمان ہو کر یہاں رہے تو وہ یہاں نہیں رہے گا۔اگر آپ اجازت دیں کہ وہ کافر ہوتے ہوئے بھی یہاں رہ سکتا ہے تو وہ واپس آجائے گا۔آپ نے فرمایا بہت اچھا ہم اسے مسلمان ہونے کے لئے نہیں کہیں گے وہ اپنے مذہب پر قائم رہ سکتا ہے۔عکرمہ کی بیوی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے یہ عہد لے کر عکرمہ کی تلاش ہیں گئی۔فکر و حبشہ کی طرف بھا گا مہا رہا تھا وہ جہاز میں سوار ہونے کو تیار تھا کہ اس کی بیوی وہاں پہنچی۔وہ جگہ مکہ سے سات دن کے فاصلہ پر تھی بیوی نے خاوند سے کہا تم کہاں چھارہے ہو۔یہاں تمہارا اپنا بھائی حاکم ہے۔کیا یہ بہتر ہے کہ تم اس کے ماتحت رہو یا یہ بہتر ہے کہ تم غیر کی غلامی کر و عکرمہ نے کہا کیا تجھے علم نہیں کہ مجھے قتل کر دینے کے احکام جاری ہو چکے ہیں۔اس نے کہا تم محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو نہیں بھانتے تمہارے سینہ میں کفر کی آگ بھڑک رہی ہے لیکن جانتی ہوں کہ جو کچھ انہوں نے مجھے سے کیا ہے۔انہوں نے سچ کہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر مکر مہ مکہ واپس آجائے تو میں اسے معاف کر دونگا عکرمہ نے کہا اچھا انہوں نے اگر معاف بھی کر دیا تو وہ مجھے مسلمان ہونے کے لئے کہیں گے لیکن میں تو مسلمان نہیں ہوں گا۔بیوی نے کہا، نہیں عکرمہ۔انہوں نے کہا ہے کہ وہ تمہیں مسلمان ہونے کے لئے بھی نہیں کہیں گے تم اپنے مذہب پر قائم رہ کر مکہ میں رہ سکتے ہو۔عکرمہ نے کہا۔کیا یہ پہچ ہے۔یونی نے کہا