تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 182
144 س پتھر پر بیٹھے ہوئے تھے اور چپ کر کے بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو جہل پاس سے گزرا اور بغیر کچھ کہے اسنے آپ کے منہ پر تھپڑ مارا اور برا بھلا کہا۔آپ نے صرف اتنا کہا کہ اسے لوگو ئیں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے یکس نے تمہیں کیا دکھ دیا ہے کہ تم مجھے مارتے ہو ئیں صرف خدا تعالیٰ کا پیغام تمہیں سُناتا ہوں۔پھر وہ لونڈی غصہ میں آکر کہنے لگی خدا کی قسم مجد نے ابوجہل کو کچھ بھی تو نہ کہا تھا۔ایک جاہل عورت کی زبان سے یہ بات شنکر حمزہ کو غیرت آگئی اور فوراً واپس لوٹے۔شام کا وقت تھا۔ابوجہل سرداروں کی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ارد گرد دوسرے سرداران منہ بیٹھے تھے۔رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کی بدگوئیاں ہو رہی تھیں حضرت حمزہ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور سیدھے اس جگہ پہنچے جہاں ابو جہل دوسرے سرداروں کے ساتھ بیٹھا محمد رسول اللہ کی بدگویاں کر رہا تھا۔ہاتھ میں تیر کمان تھی آپ نے اس کا ایک سرا پکڑ کر ابوجہل کے منہ پر دے مارا اور کہا تو بڑا بہادر بنا پھرتا ہے میری لونڈی نے مجھے بتایا ہے کہ میرا بھتیجا آج صبح جب ایک پتھر پر بیٹھا تھا تو تو نے اسے تھپڑ مارا اس نے تمہیں کچھ جواب نہ دیا۔اب میں تمہیں مارتا ہوں اگر تم بہادر ہو تو میری مار کا جواب دو۔یہ واقعہ ایسا اچانک ہوا کہ ابو جہل گھبرا گیا اس کے ساتھتی ہوئش سے کھڑے ہوئے اور سعزت حمزہ کے ساتھ لڑنے کو اُٹھے مگر ابو جہل پر صداقت کا اثر تھا وہ کہنے لگا جانے دو مجھ سے ہی صبح غلطی ہوگئی اور تھی حضرت حمزہ واپس آئے اور اس مکان کا پتہ لے کر جہاں ان دنوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے وہاں پہنچے اور عرض کیا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں۔یہ ابوجہل کی دشمنی کا حال تھا۔بلا وجہ رسول کریم کی دشمنی کیا کرتا تھا۔اگر یہ ہوتا کہ آپ توحید کا وعظ کر رہے ہوتے اور ابو جبل پاس سے گذرتا اور آپ کا وعظ شنکر غصہ میں آجاتا تو کچھ جواز بھی نکل سکتا تھا لیکن آپ خاموش تھر پر بیٹھے کسی مسئلہ کے متعلق سوچ رہے تھے اور ابو جہل نے بلاوجہ آپ کو پھر مارا۔یہ ابو جہل کی مخالفت کی حالت تھی۔اس کا بیٹا عکرمہ بھی اس کے نقش قدم پر چلتا تھا اور وہ آپ کی دشمنی میں انتہاء کو پہنچا ہوا تھا۔بیسیوں مسلمانوں کو اس نے مارا اور قتل کیا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کو فتح دی اور سول کریم ایک فاتح کی حیثیت میں مکہ میں داخل ہوئے اور آپ نے چند افراد کو جو تعداد میں سات کے قریب تھے اور جنہوں نے مسلمانوں کو مارا تھا ان کو انسانیت کے خلاف جرائم کرنے کی وجہ سے مار دینے کا حکم دیا۔یورپ والوں نے بھی بعض لوگوں کو اسی قسم کے جرموں کی بناء پر قتل کیا یا پھانسی پر لٹکایا