تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 181 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 181

189 انہیں پتہ لگ گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی دین حقہ لائے ہیں تو وہی مکہ والے جو آپ کو مارنے کے درپے تھے آپ کی خاطر قربانیاں کرنے اور اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے اثر ترین دشمن عقبہ، شیبہ، عام اور ابو جہل تھے اور ان کے ساتھ لگا ہوا ابو سفیان تھا۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول اکرم کی ابتداء سے مخالفت کی۔ایسی شدید مخالفت کی جس کی مثال دنیا کے پر وہ پر نظر نہیں آتی۔ابوجہل کی مخالفت کا یہ حال تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹان پر بیٹھے ہوئے کسی مسئلہ کے متعلق سوچ رہے تھے صبح کا وقت تھا۔ابوجہل پاس سے گذرا اس نے جب آپ کو چٹان پر اس طرح خاموش بیٹھے دیکھا تو شیطان نے اس کے دل میں شرارت پیدا کی۔اس نے آپ کو گالیاں دیں برا بھلا کہا اور پھر آپ کو ایک تھپڑ مارا اور کہا تو باز نہیں آتا اپنی باتوں سے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چکے بیٹھے کسی مسئلہ کے متعلق سوچ رہے تھے۔جب ابو جیل نے آپ کو تھپڑ مارا آپ نے صرف اتنا کہا ئیکس نے آپ کا کیا بگاڑا ہے کہ تو میرا دشمن ہو گیا ہے میں نے تو تمہیں صرف خدا تعالیٰ کا پیغام سنایا ہے۔آپ نے یہ فرمایا اور چٹان پر بیٹھ گئے حضرت حمزہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔آپ نہایت ہی ویر، بہادر اور مضبوط پہلوان تھے۔آپ ہر وقت شکار میں لگے رہتے تھے اور دین کے متعلق سوچنے کا کبھی آپ کو خیال بھی نہیں آتا تھا جب ابو جہل نے خستہ رسول اللہ کو مارا تو آپ کی ایک پرانی لونڈی اس واقعہ کو دیکھ رہی تھی۔پڑا لی لونڈیاں اور خادم بھی گھر کے فرد بن جاتے ہیں۔اس لونڈی نے جب یہ نظارہ دیکھا تو اسے بہت دکھ ہوا، و مسلمان تو تھی نہیں وہ سارا دن کام کر تی جاتی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دوسرے بزرگوں کو یاد کر کے بڑبڑاتی جاتی تھی کہ آمنہ کے بچے نے ان کا کیا بگاڑا ہے کہ وہ یونہی اسے مارتے ہیں اور وہ انہیں کچھ بھی تو نہیں کرتا۔سارا دن اس کے سینہ کے اندر آگ لگی رہی۔رسول کریم اس پتھر پر سے اُٹھے اور اپنے گھر تشریف لے گئے۔حضرت حمزہ شکار کے لئے باہر گئے ہوئے تھے۔شام کو وہ تو بھی بنے نیزہ اور تلوار لڑکائے ہوئے تیر کمان پکڑے ہاتھ میں شکار ٹکائے گھر واپس آئے بحضرت حمزہ کا گھر میں داخل ہونا تھا کہ وہ لونڈی کھڑی ہوگئی اور اس نے کہا تم بڑے بہا در یبنے پھرتے ہو ہر وقت اسلحہ سے مسلح رہتے ہو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ صبح ابو جہل نے تمہارے بھتیجا سے کیا کیا۔حضرت حمزہ نے کیا کیا بات ہے۔یہ سوال سنگر لونڈی روپڑی اور اس نے کہا نہیں دروازہ میں کھڑی تھی کہ محمد رسول الہ