تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 180
160 مسلمان جو تمہیں گالیاں دیتے ہیں تو پھر بھی ان کا لحاظ کر آخر یہ تمہیں کو گالیاں دیتے ہیں تمہیں مارنے کو کیوں دوڑتے ہیں اور تم پر حملہ آور کیوں ہوتے ہیں۔یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے تمہیں مارتے اور گالیاں دیتے ہیں اس لئے ان کا لحاظ رکھنا بھی بڑا ضروری ہے۔غرض ہماری جو مخالفت ہوتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ اس کے پیچھے کیا بات ہے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ لوگ جو تمہیں گالیاں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہاری چائے بھی شراب سے بدتر ہے (گویا شراب پینا جائز ہو سکتا ہے لیکن ہماری چائے پینا جائز نہیں) اگر انہیں پتہ لگ جائے کہ میرے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا جو شعلہ مبل رہا ہے وہ ان کے لاکھوں لاکھ کے اندر بھی نہیں مل رہا تو وہ فوراً تمہارے قدموں میں گر جائیں گے یہ لوگ مخالفت اسی لئے کرتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہیں اور میرے ساتھی محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہیں یہ مخالفت بعض غلط فہمیوں کے نتیجہ میں ہے۔اسی لئے جب میں نے سنا کہ لوگ میرے آنے پر شورش کریں گے تو مجھے غصہ نہیں آیا مجھے یہ شنکر کہ لوگ میری مخالفت کی وجہ سے شورش کریں گے خوشی ہوئی کہ ابھی میرے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی چنگاری ان کے اندر سلگ رہی ہے اگر چہ وہ کسی غلط فہمی کی بناء پر ایسا کر رہے ہیں لیکن اس کا موجب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی ہے اس لئے ہمیں بجائے غصہ میں آنے کے تبلیغ کی طرف توجہ دینی چاہیئے اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہیئے۔اگر کسی شخص کا بھائی بیمار ہو جاتا ہے تو وہ اسے زہر دے کر مارا نہیں کرتا ، وہ اسے گلہ گھونٹ کر مارا نہیں کرتا بلکہ اس کا علاج کرتا ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم بجائے ناراض ہونے کے اس مخالفت کو رفع کرنے کی کوئی تدبیر کریں۔اگر لوگ مخالفت کرتے ہیں اور مجھے یابانی سلسلہ احمدیہ کو یا تمہیں برا بھلا کہتے ہیں تو جماعت کو یاد رکھنا چاہئیے کہ وہ تمہارے بھائی ہیں اور کسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں پس تم بجائے ناراض ہونے کے دعائیں کرو، ان مخالفت کرنے والوں کو اصل حقیقت سے واقف کرو جب تم انہیں اصل حقیقت سے واقف کر دو گے تو انہیں پتہ لگ جائے گا کہ هم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن نہیں بلکہ آپ کے بچے عاشق ہیں اور وہی لوگ جو تمہیں مارنے پر آمادہ ہیں تمہاری خاطر مرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔آخر مکہ والوں نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی کتنی مخالفت کی تھی۔وہ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اسی لئے کرتے تھے کہ وہ سمجھتے تھے یہ شخص دین حقہ یعنی اُن کے آباء و اجداد کے دین کی مخالفت کرتا اور اسے بگاڑتا ہے لیکن جیب