تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 162
۱۵۸ یا کو نسی نئی بات ہے جو تمہیں تشویش میں ڈالتی ہے۔کیا کوئی نبی دُنیا میں ایسا آیا ہے جس کی جماعت نے پھولوں کی سی سے گزر کر کامیابی حاصل کی ہو پتھر اور کنکر اور کانٹے ہی ہیں جن پر سے نبیوں کی جماعتوں کو گزرنا پڑا اور انہی پر سے تم کو بھی گزرنا پڑے گا۔جس طرح ایک بکری کے بچہ کے پیر میں جب کانٹا پیچھے جاتا ہے تو گلہ بان اس کو اپنی گود میں اٹھا لیتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کرتے ہوئے اگر تمہارے پاؤں میں کانٹا بھی پیچھے گا تو ایک غریب آجڑی نہیں، ایک کمزور گلہ بان نہیں بلکہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا خدا تم کو اپنی گود میں اٹھا لے گا لیکن اگر تم ڈرتے ہو تو تم اپنے ایمان میں کمزور ہو اور ان نتائج کے دیکھنے کے اہل نہیں جو انبیاء کی جماعتیں دیکھتی چلی آئی ہیں۔تم اپنی مستیوں اور غفلتوں کو دور کرو۔بایوسیوں کو اپنے قریب بھی نہ آنے دور تمہیں خدا تعالیٰ نے شیر بنایا ہے تم کیوں یہ سمجھتے ہو کہ تم میریاں ہو۔جدھر تمہاری باگیں اٹھیں گی ادھر سے ہی اسلام کے دشمن بھاگنے شروع ہو جائیں گے اور بعد ھو تمہاری نظریں اُٹھیں گی ادھر ہی صداقت کے دشمن گرنے شروع ہو جائیں گے۔بے شک خدا تعالیٰ کے دین کے قدیم کے لئے تم ماریں بھی کھاؤ گے۔تم قتل بھی کئے جاؤ گے تمہارے گھر بھی بھلائے جائیں گئے بے تمہا را قدم ہمیشہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا اور کوئی طاقت تمہاری ترقی کو روک نہیں سکے گی۔اٹلی شقت یہی ہے کہ اس کی جماعتیں مرتی بھی ہیں، اس کی جماعتیں چلی بھی جاتی ہیں، اور اس کی جما معنی بالا پر دنیوی لقمان بھی اٹھاتی ہیں مگر ان کا قدم ہمیشہ ترقی کی طرف بڑھتا ہے۔اور یہی وہ معجزہ ہوتا ہے جو سنگدل سے سنگدل دشمن کو بھی ان کے آگے جھکا دیتا ہے اور انہیں فتح اور کامیابی حاصل ہو جاتی ہے پس اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرور نمازوں پر زور دو۔دعاؤں پر زور دو شب بیداری پر زور دور سردتر و نیران پر زور دو۔دین کی خدمت پر زور د و تبلیغ پر زور دو اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کر جب تم خدا کے لئے اپنے آپ کو بدل لو گے تو بند تمہارے لئے ساری دنیا کو بدل دے گا اسے راولپنڈی میں جو بڑی بد الدین ان کی شدت ا ا ر ا م م صاحب کی دردناک شہادت ماسٹر غلام محمد بڑا | کا زخم بالکل تازہ ہی تھا کہ صرف چند روز بعد جماعت احمدیہ راولپنڈی کے ایک سادہ مزاج اور خاموش طبع بزرگ اور صحابی چوہدری بدرالدین صاحب نے لدھیانوی گولی مار کر شہید کر دئے گئے۔الفضل ١٠ اکتوبر ۹۵ ئه م تا مث :