تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 159
140 کی نگہداشت کے لئے اقوام متحدہ کے ادارہ میں سر ظفراللہ کی موجودگی کو اسلامی ممالک کی خوش قسمتی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔نیز پاکستان کے قیام اور بعد میں پاکستان کے استحکام کے لئے مسلم جماعت احمدیہ کو ہو بے مثال اور نا قابل فراموش قربانی ادا کرنی پڑی ہے اس کے پیش نظر چاہیئے تو یہ تھا کہ اس جماعت کی جو اپنا ناموس اور گھر بار اور کروڑوں روپیہ کی جائداد اور اپنا مرکز چھوڑ کر پاکستان بھی تھی۔۔۔قدر کی جاتی۔۔۔یقیناً پاکستان کے لئے اس جماعت کی قربانیاں باقی مسلمانان ہند کے مقابلہ میں اگر زیادہ قابل قدر نہیں تو اس درجہ حقیر اور خلاف انسانیت سلوک کے قابل نہیں کہ احرار کی خفتہ انگیز تقاریر سے متاثر ہو کہ اوکاڑہ میں وہاں کے غنڈوں کے ہاتھوں نہ صرف کہ چندہ احمدیوں کے منہ کالے کئے گئے بلکہ مسجد احمدیہ میں گندگی تک پھینکی گئی اور غنڈوں کا انتقامی جوش ایک بے گناہ احمدی مسلمان کمی شہادت کا باعث بھی بنا۔ابھی اوکاڑہ کی فضا احمدیوں کے مزید کشت و خون کے لئے مکرر بیان کی جاتی ہے۔گو ارمنی طور پر وہاں پولیس کی چوکیاں بٹھا کر امن قائم کر دیا گیا ہے۔ضرورت ہے کہ آنریل ڈاکٹر لیاقت علی خان صاحب وزیر اعظم پاکستان اپنی اولین توجہ اوکاڑہ کے تازہ سانحہ پر دین اور وہابیوں، شیعوں اور احمدیوں کو کفر و الحاد کی سندیں دینے والی پاکستان دشمن ا را بر جماعت کی اس قسم کی فتنہ انگیز تقریروں پر کڑی پابندی عائد کی جائے اور سانحہ اوکاڑہ کا اصل پس منظر معلوم کیا جائے کہ آیا وہ کونسے اسباب تھے کہ پورے چار دن اوکاڑہ کے غنڈوں نے امریہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر وہاں کے احمدیوں پر عرصہ حیات تنگ کئے رکھا۔چونکہ پاکستان کا قیام ایک جمہوری اور قومی ریاست کی بنیاد پر عمل میں لایا گیا ہے۔اس لحاظ سے ہمارا مطالبہ ہے کہ ہر پاکستانی کو ملکی قانون کے اندر رہتے ہوئے پوری مذہبی آزادی حاصل ہونی چاہئیے۔سانحہ اوکاڑہ کے اصل محرک جو لوگ ہیں انہوں نے اسلامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی پاکستان دشمنی کا ثبوت دیا ہے اور ان کے اس فعل سے پاکستان کے قومی اتحاد کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے حکومت کا فرض ہے کہ ایسی مجرمانہ اور غیر ذمہ دارانہ حرکات کا آئندہ کے لئے مکمل سد باب کرے اور پاکستان میں رہنے والی تمام ایسی نام نہاد مذہبی جماعتوں کی تقریر و تحریر پر پابندی عائد کی بجائی ضروری ہے جو فرقہ وارانہ جذبات کی انگیخت کا باعث ہوں "