تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 158 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 158

۱۵۴ جہاں تک صوبہ سرسید کا تعلق ہے اس کے اخبارات نے انتہائی اخبار حلیم (پشاور) کا پُرز مرنوٹ غیر جانبدارانہ روش اختیار کی بلکہ پشاور کے ہفت روزہ اور حکومت سے مطالبہ تنظیم نے اپنی ۲۶ اکتوبر زائد کی اشاعت میں احرار کی پاکستان دشمن سرگرمیاں کے زیر عنوان مندرجہ ذیل پر زور نوٹ پر واشاعت کیا :- کسے معلوم نہیں کہ مجلس احرار بھی کانگریس کی طرح مسلمانوں کے محبوب مطالبہ پاکستان کی روز اقول سے شدید مخالفت کرتی رہی ہے۔پاکستان کو پلیدستان اور قائد اعظم کو اول درجہ کا فرقہ پرست کہنے والی اس نام نہاد اور پاکستان دشمن جماعت نے قیام پاکستان کے بعد ملک کے قومی اتحاد کے شیرازہ کو بکھیرنے کے لئے پنجاب میں مذہبی تبلیغ کے نام سے گذشتہ عرصہ میں جو کا نفرنسیں اور جلسے کئے ان احرار مبلغوں نے نہ صرف شیعہ سنی مناقشات کو ہوا دی بلکہ جماعت احمدیہ کے خلاف ہلاکت آفرین زہر اگلا۔اس کی تفصیل ہم کسی گذشتہ اشاعت میں دے چکے ہیں۔احرار نے اپنے یہ تبلیغی جلسے پنجاب کے ان اہم مرکزی مقامات اور دیہات میں کئے جہاں کے نوجوان پاکستانی افواج میں ملک و ملت کی خدمت کر رہے ہیں اور آئندہ بھی یہی علاقے ملک کی خدمت کے لئے نوجوانوں کی بھرتی دے سکتے ہیں پنجاب کے سادہ لوح دیہاتیوں میں پاکستان کی فوجی قوت اور قومی اتحاد کو کمزور کرنے کے لئے مرزائیت اور احمدیت کو کا فر اور خارج از اسلام بے دین فرقہ ظاہر کر کے عوام سے کہا گیا کہ تمہیں یہ کیا معلوم ہے کہ راس وقت پاکستان کے جتنے اہم سرکاری شعبے ہیں ان میں شیعوں اور احمدیوں کی حکمرانی ہے اور خاص کر پاکستان کی طرف سے سر ظفر اللہ کا بطور وزیر خارجہ تقر مسلمانوں کے لئے مذہبی اوریکی نقطۂ نظر سے شدید خطرہ و نقصان کا باعث ہے۔اسلام کسی حالت اور کسی صورت میں احمدیوں سے اشتراک عمل کی اجازت نہیں دیتا۔لہذا مسلمانو ! احمدیوں کی خفیہ ریشہ دوانیوں اور سر ظفر اللہ کے ہندوؤں سے کشمیر کے سودا کے ساز باز و غیر مسلم دشمن حرکات سے بر وقت خبر دار رہو۔اگر سر ظفر اللہ اسی طرح وزارت خارجہ کے اہم عہدہ پر فائز رہا تو بس میں سمجھو کہ تمہارا اسلام اور کلچر وغیرہ سب مٹ جائیں گے حالانکہ سر ظفر اللہ کی سلامتی کونسل میں نہ صرف پاکستان بلکہ تمام اسلامی ممالک کے مسائل سے گہری، بے لوث اور ٹھوس تر جانی کے باعث تمام عرب ممالک نسر ظفر اللہ پر اپنے اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں اور مسلم ممالک کے حقوق