تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 160
167 حضرت مصلح موعود کی طرف جماعت احدیہ کو شہید احدیت اسر الامام صاحب کے بلاناک واقعہ شہادت پر ستر مصلح موسی والے ۶ - اخبار اپنے انار و کافی انقلاب برا کرنے کی تلقین کو ای عارفانہ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں حضور نے جماعت پر واضح کیاکہ معیوں کی جماعتوں کو پتھر، کنٹر اور کانٹوں پر سے ہی گزرنا پڑ تا ہے مگر یا درکھو جب تم خدا کے لئے اپنے آپ کو بدل دو گے تو خدا تمہارے لئے ساری دنیا کو بدل دے گا۔چنانچہ فرمایا : آج میں اختصار کے ساتھ اس امر کی طرف جماعت کو خصوصا جماعت کے نوجوانوں کو تو جہ دلاتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کی مخالفت بہت سخت ہوتی جاتی ہے۔وہ لوگ جو کل تک ہماری جماعت کی تعریف ہیں رطب اللسان تھے آج ان کے خون کے پیاسے نظر آ رہے ہیں۔آپ لوگوں نے اخبار میں اوکاڑہ کے واقع پڑھتے ہوں گے کہ وہاں ہمارے ایک دوست کو شہید کر دیا گیا ہے۔اب پردہ ڈالنے کے لئے یہ کہا جارہا ہے کہ قتل کرنے والے کی مخالفت کی بناء کوئی لین دین کا جھگڑا تھا مگر ساتھ ہی یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ وہ جھگڑا دو سال کا پرانا تھا۔حالانکہ اگر یہ بات درست بھی تسلیم کر لی جانے کہ دو سال پہلے کا کوئی جھگڑا تھا تب بھی اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس وقت اس کا قتل کرنا در حقیقت ان مولویوں کی انگیخت کا نتیجہ تھا جنہوں نے ہماری جماعت کے خلاف تقریریں کیں۔ورنہ اگر صرف یہی جھگڑا اختلاف کا باعث تھا تو اس نے گذشتہ دو سال میں یہ فعل کیوں نہ کیا۔اگر ایک شخص دیکھے کہ کوئی اُن کے بچے کو پیٹ رہا ہے اور وہ اُس وقت خاموش رہے لیکن دو سال کے بعد مارنے والے کو پیٹنے لگے اور کہے کہ میں اس لئے پیٹ رہا ہوں کہ اس نے آج سے دو سال پہلے میرے بچہ کو مارا تھا تو کوئی شخص اس کی بات کو تسلیم کریگا ی شخص کہے گا کہ اب اتنا عرصہ گزر بھانے کے بعد تمہارا پیٹینا اگر اشتعال کی وجہ سے ہے تب بھی اس اشتعال کو کسی اور چیز کے تازہ کر دیا ہے۔اسی طرح اس استعمال کو نہ زندہ کرنے والا، اس اشتعال کو تازہ کرنے والا اور اس اشتعال کو اُبھارنے والا مولویوں کا لوگوں کو جوش دلانا اور ان کا احمدیوں کے خلاف تقریریں کرنا تھا، اوریہ ایک انگہ کا مال نہیں ہر جگہ یہی ہو رہا ہے۔ان حالات میں پہلی نصیحت تو یکن جماعت کے دوستوں کو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ان امور کو ابتا، بشر نہ سمجھیں بلکہ دینی ترقی کا ذریعہ سمجھیں۔یہ بزدلوں اور بے اینا دل کا کام ہوتا ہے کہ وہ مصائب کے آنے پر گھبرا جاتے ہیں۔