تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 145 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 145

تمہارے قبضہ و تصرف سے باہر ہے پس تمہیں اصل حقیقت کو دیکھنا چاہئیے اور اس پر غور کرنا چاہیے ہم بہل نہیں ہیں اور اگر ہم اصل ہوتے تو دنیا ہمیں کبھی کی تاکہ نیکی ہوتی ہم تصویر یں ہیں اس لئے دنیا ہمیں جتنا بھی نقصان پہنچاتی ہے دین کا کچھ نہیں بگڑتا تصویر وں میں بعض دفعہ بادشاہ کا جلوس بھی دکھایا جاتا ہے اب اگر کوئی شخص بادشاہ کے جلوس پر گولیاں برسائے تو کیا بادشاہ مرجائے گا ؟ اس طرح ہم بھی تصویریں ہیں ہم کو خدا تعالیٰ نے اس لئے بھیجا ہے تاکہ اس کی حکومت دنیا میں قائم ہو۔میں طرح تصویر پر گولی چلانے والا اصل کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا اسی طرح اگر کوئی شخص ہم پر گولی چلاتا ہے تو گو ہم مرجاتے ہیں ہم ختم ہو جاتے ہیں لیکن اس ش کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا جس کو قائم کرنے کے لئے اس نے ہمیں کھڑا کیا ہے۔بلکہ اگر کوئی بادشاہ کے جلوس پر گولی پٹاتا ہے تو بادشاہ کومعلوم ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ میرے مخالف ہیں اور وہ پہلے سے بھی زیادہ سخت تدابیر اختیار کرتا ہے ہمیں اپنے اندر خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے ساتھ تعلق پیدا کر و حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام یا ان کے خلفاء ہے شک بوجہ خدا تعالیٰ کا نمائندہ ہونے کے ادب کے قابل ہیں لیکن وہ مقصود نہیں ان کے لئے اس نے یہ نیکی نہیں بنائی بلکہ اپنے لئے بنائی ہے۔پس یہ مجھ لو کہ تم جس کام کے لئے کھڑے ہو وہ غصہ اتعالیٰ کا ہے اور اس کے نام کو تم نے روشن کرنا ہے باقی ساری چیزیں اظلال کے طور پر ہیں اور اظلال آتے بھی ہیں اور بہاتے بھی ہیں ہاں خدا تعالیٰ یہ ضرور کرتا ہے کہ جب ظل کی کوئی شخص بہتک کرتا ہے تو وہ اسے اپنی ہتک قرار دیتا ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ تم کسی کے دوست کی تصویر کو جوتیاں مارو اور وہ اسے برداشت کرے۔اسی طرح ہم ہیں تو انسان لیکن خدا کتا ہے کہ یکس نے اس کو اپنی شکل پر پہنچا ہے لیکن نے اس کو اپنا قائم مقام بنا کر کیا ہے اس لئے تو نے اس کو جوتی نہیں ماری بلکہ مجھ کو جوتی ماری ہے، تو نے اس کو گالی نہیں دی بلکہ مجھ کو کالا رہی ہے ، تو نے اس کو دلیل نہیں کیا بلکہ مجھ کو ذلیل کیا ہے۔اس لئے ایسا آدمی بچتا نہیں آدم سے لے کر اب تک ایسا آدمی نہیں بچا او قیامت تک نہیں بچ سکتا یہ ہے قیام کراچی کے دوران دوسرا اہم واقعہ یہ ہے کہ حضور نے ۱۲ تبوک از تیر کراچی پریس کانفرنس کا ایک پریس کانفرس سے خاب برای جی میں سات ہی عالم کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ ان کا مستقبل فریضہ تبلیغ کی ادائیگی سے وابستہ ہے۔6195 له الفضل ٢٢ ستمبر ١٩ حث۔