تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 142
ہو کر پیا سیاہ کے لئے بدنامی اور رفتنہ کا موجب بنے ہوئے ہیں لیکن دکھتا ہوں کہ جماعت میں ان کے متعلق کئی قسیم کی رائیں ہیں لیکن جومجھ پر اثر ہے وہ یہ ہے کہ کافی حصہ جماعت کا ایسا ہے جو ان کی دولت یا مال کی وجہ سے یہ خیال کرتا ہے کہ بڑے لوگ ہم سے الگ ہو گئے ہیں ریسلسلہ کا بڑا نقصان ہوا ہے بارہ ازان بعد حضور نے زبر دست قوت و شوکت سے بھرے ہوئے الفاظ میں اس خیال کی لغویت اور بطلان پر تفصیلی روشنی ڈالی چنانچہ فرمایا۔خدا تعالیٰ کا قائم کردہ خلیفہ اور یہ دو دو چار چار یا پانچ پانچ ہزار روپیہ کمانے والے آپس میں نسبت ہی کیا رکھتے ہیں۔ان لوگوں کی تو اتنی بھی حیثیت نہیں متقی ہاتھی کے مقابلہ میں ایک مچھر کی ہوتی ہے۔شاید تم میں سے بعض لوگ یہ خیال کرتے ہوں کہ خلیفہ بیمار رہتا ہے اور وہ بڑھا بھی ہوگیا ہے اب شاید وہ جلد ہی مر جائے گا پھر ان لوگوں کے مقابل پر ہمارا کیا حال ہو گا میں ایسے لوگوں سے یہ کہتا ہوں کہ اردو کا محاورہ ہے کہ ہاتھی زندہ لاکھ کا اور مردہ سوالاکھ کا یا ہم وہ لوگ ہیں جو مر کہ زیادہ طاقتور ہوا کرتے ہیں۔ہماری زندگی میں خدا تعالیٰ ہمارے دشمن کو بالعموم محفوظ رکھتا ہے کیونکہ وہ ارحم الراحمین ہے لیکن ہماری موت کے بعد وہ ہمارے لئے اپنی غیرت دکھاتا ہے جس کے مقابلہ میں کسی قریب ترین عربیہ یا عاشق کی غیرت بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔پس ان لوگوں کی کوئی ہستی نہیں بلکہ مجھے تعجب آتا ہے کہ تم ان کی طرف کیوں توجہ کرتے ہو۔ان کے افعال اور ان کی باتیں محض ایک نشان دکھانے کے لئے زندہ رکھی جاتی ہیں۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ عجائب گھروں میں مرے ہوئے سانپ رکھے جاتے ہیں۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ عجائب گھروں میں مردہ بچھو سکھے جاتے ہیں جس طرح عجائب گھروں میں مردہ سانپ اور مرد ہر چھو ر کھے جاتے ہیں اسی طرح خدا ئی سلسلہ میں ایسے لوگ رکھے جاتے ہیں تا کہ لوگ ان کو دیکھ کر نصیحت حاصل کریں۔وہ اس لئے نہیں رکھے جاتے کہ ان کو کوئی طاقت حاصل ہوتی ہے۔وہ اس لئے نہیں رکھتے جاتے کہ ندا تعالیٰ کے سلسلے کے مقابلہ میں ان کو کوئی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔بلکہ وہ اسلئے رکھے جاتے ہیں تاکہ لوگ انہیں دیکھ کر ہوشیار رہیں اور وہ اس حقیقت کو ہمیشہ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھیں کہ بعض لوگ چند قدم چل کر ایسے خطر ناک گڑھے میں گر جاتے ہیں ؟ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو پوزیشن شائر میں تھی اس سے اب سینکڑوں گئے زیادہ ہے له الفضل ۲۲ ستمبر ان حث : ه الفضل ۲۲ ستمبر 90 م +