تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 143
۱۳۹ اور دنیا کے بہت سے ایسے ممالک میں اب احمدیت قائم ہے جن ممالک میں حضرت مسیح موعود علی اسلام کے زمانہ میں ایک بھی احمدی نہیں تھا۔تو بات وہی ہے کہ ہاتھی زندہ لاکھ کا اور مردہ سوال کھ کا بلکہ سوال کی بھی انسانی نقطہ نگاہ کے لحاظ سے کہا گیا ہے ورنہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کے لحاظ سے تو کروڑوں کروڑ بھی کہا جائے تو کم ہے پس شاید تم میں سے کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ اگر میں مرگیا تو کیا ہو گا؟ اس میں کوئی شیر نہیں کہ آخر ہر انسان نے مرنا ہے اور میری صحت تو شروع ہی سے کمزور چلی آرہی ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات سے چند دن پہلے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بلایا اور میری طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ڈاکٹر صاحب آپ کچھ اس کی طرف بھی توجہ کریں مجھے تو اس کی صحت کا سخت مشکر رہتا ہے ایسی صحت کے ساتھ میں نہیں کر سکتا کہ یہ کچھ حصہ بھی زندہ رہے گا یا نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے چند دنوں بعد وفات پاگئے اور میں جو ہر وقت بیمار رہتا تھا اب بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہوں مجھ سے بہت زیادہ قوی اور مضبوط انسان مجھ سے پہلے گذر گئے۔حافظ روشن علی صاحب مجھ سے بہت زیادہ قوی تھے اور ان کی عمر بھی میرے قریب قریب تھی وہ بڑے مضبوط اور طاقتور تھے مگر ۱۹۲۹ء میں میرے دیکھتے ہی دیکھتے فوت ہو گئے۔میر محمد اسحق صاحب مجھ سے بہت زیادہ قوی اور مضبوط تھے اور دو سال مجھ سے پھوٹے تھے مگر نہ میں وہ بھی فوت ہو گئے اور میں جس کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ اب مرا کہ اب مرا اب اپنی عمر کے باسٹھویں سال میں سے گزر رہا ہوں بہت سے تندرست اور سکول میں میرے ساتھ پڑھنے والے نوجوان جو بچپن میں ہر میدان میں مجھے شکست دیا کرتے تھے اور جو مجھ سے بہت زیادہ قوی اور مضبوط تھے وہ قریباً سارے کے سارے فوت ہو چکے ہیں شاید ان میں سے کوئی ایک دو ہی اب زندہ ہوں پس یہ امر تو خدا تعالیٰ کی مرضی پیر منحصر ہے اور جب یہ اس کا قائم کر وہ سلسلہ ہے تویہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ میری موت کا وقت آجائے اور دنیا یہ کہے کہ مجھے اپنے کام میں کامیابی نہیں ہوئی میری وذات خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اُس دن ہوگی جس دن میں خدا تعالیٰ کے نزدیک کامیابی کے ساتھ اپنے کام کو ختم کر لوں گا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ پیش گوئیاں پوری ہو جائیں گی جو میں میرے ذریعہ سے اسلام اور احمدیت کے کلیبر کی خبر دی گئی ہے۔اور وہ شخص بالکل قدیم علم اور جہالت کا شکار ہے جو ڈرتا ہے کہ میرے مرنے سے کیا ہوگا۔حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ کیں تو جاتا ہوں لیکن خدا تمہارے لئے قدرت ثانیہ