تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 106
۱۴،۱۳ ظهور ۱۳۲۸۵، مطابق ۱۳ ۱۴- اگست ۱۹۴۹ئر کو جماعت احمدیہ نائیجیریا کا پہلا سالانہ جلس مسجد احمد یہ لیگوس میں انعقاد پذیر ہوا جس میں مقامی احباب کے علاوہ المارد، کوٹہ ، رجب واڈے، الینے ، ایسے ، اجڑے ، اودین ، اونڈو، اکیسٹی پوپا ، اولیو، اومو ، اووو آڈو اکمیتی ، زاری ، آگے ڈنگی کی احمد ہی جماعتوں کے احباب شامل ہوئے۔جلسہ کے چارا اجلاس ہوئے جن میں مولوی نور محمد صاحب تیم سیفی امیر و انچارج نائیجیریا، قریشی محمد افضل صاحب اور مولوی سید احمد شاہ صاحب (پاکستانی مجاہدین ) کے علاوہ مندرجہ ذیل نائیجیرین احمدیوں نے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا :- الفابیض صالح آن اوٹا ، مسٹر سے بی ابا نوگون ، آئی ڈی اولو کو ڈانا، الحاج اسے اسے ایبٹوالا آن الارو، الحاج عبد الوحید فلا دیو آن زاریا ، انکے اوسنیا لو، بی۔بی با لوگوں ، الفا اسے بی ڈنمالا آف اجڑے۔جلسہ کے اختتام پر ایک مقامی غیر احمدی عالم الحاج عبدالله آدم فارغ التحصیل الا زہر یونیورسٹی مصر نے جماعت احمدیہ کی یورپ میں اسلامی خدمات کو سراہا۔جلسہ کے ایام میں سالانہ مجلس مشاورت کے اجلاس بھی ہوئے جن میں فضل عمر احمد یہ سکول کے قیام اور احمد یہ اخبار دی روتھ کے اجراء کے لئے اخراجات کی تحریک کی گئی۔نائیجیریا کے پریس نے اس کامیاب جلسے کی رپورٹیں شائع کیں۔چنانچہ اخبار افریقین ایکسپریس نے ۲۳ اگست ۱۹۴۹ء کے شمارہ میں صفحہ اول پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شبیہ مبارک اور حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب تیر بانی نائیجیریا مشن کی تصویر شائع کی اور لکھا :- و صد ر انجمن احمدیہ قادیان کی شاخ نائیجیریا مشن نے اپنی پہلی سالانہ کا نفرنس کے اجلاسوں میں نہایت اہم امور پر کیت کی ہے جو جماعت احمدیہ اور تمام مسلمانان نائیجیریا کے مفاد سے وابستہ ہیں۔اس پہلی سالانہ کانفرنس میں صوبہ بات کے ساتھ نمائندے شامل ہوئے۔علاوہ ازیں معززین شہر اور جبکہ مذاہب کے علماء نے شرکت کی۔احمد یہ سکول کھولنے کے لئے خاص تجاویز زیر غور آئیں فیصلہ کیا گیا ہے کہ یہ سکول واسط بوک ۳۲۸۵/ / ستمبر ۱۹۲۹ء میں مسجد احمدیہ واقع اجو گیو اسٹریٹ میں ہماری کیا جاوے۔اس سکول میں تمام بالمباء کو بلا امتیاز مذہب و ملت داخلہ کی اجازت ہو گی۔کوٹر