تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 105 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 105

۱۰۴ کیا جا سکتا مختلف تدابیر ہی میں سے بعض کو مقصد وحید کے لئے قربان کیا جائے گا۔پس پاکستان کے ارباب حل و عقد کو یہ موقع دینے کے لئے کہ وہ ایسی پالیسی کو جسے و ہی سمجھتے ہیں اچھی طرح پھلا سکیں تمام مہاجرین کشمیر اور پاکستانی مسلمانوں کو سہولتیں ہم پہنچانی چاہئیں تا کہ پاکستانی حکومت ڈھیھی سے کام کرسکے اور ان نتائج کو پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکے جو وہ پیدا کرنا چاہتی ہے۔یہ لکی نہیں کہتا کہ کوئی شخص اپنے اختلاف رائے کو ان لوگوں کے سامنے بھی پیش نہ کرے جو حکام مجاز ہیں ان کے سامنے اپنے خیالات کو بغیر جوش اور تعصب کے رکھ دینے ہیں کوئی حرج نہیں لیکن المیا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیئے کہ اصل کام کی جگہ لڑائی جھگڑوں کے تصفیہ میں لگے رہیں اور اصل کام کا حرج ہو جائے۔پس تمام مختلف الخیال کشمیری مہاجرین کو اس کام کے لئے اکٹھے ہو جانا چاہیئے اور حکومت پاکستان کے مقدر کردہ اداروں سے مل کر اس طرح زور لگا نا چا ہیئے کہ کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہو جائے اور عظیم الشان خطرہ جو ہر وقت پاکستان کے سامنے رہتا ہے گلی طور پر دور ہو جائے۔یہ یادرکھنا چاہیئے کہ اول تو اعلان بھی کشمیر کے نمائندوں کا نام نہیں ہے۔اگر اہل کشمیر میں سے بعض کو بعض سے اختلاف بھی ہو۔تو یہ کو ان کہہ سکتا ہے کہ ہر نمائندہ ضرور اُن سے اختلاف خیال رکھتا ہو گا لیکن اگر فرض کرو ایسا ہو بھی تو کیا چند دنوں کے لئے ایک مخصوص کام کے لئے جس پر کشمیر کے مسلمانوں کی زندگی اور موت کا انتھار ہے وہ میرے کام نہیں لے سکتے ہیں تمام اہل کشمیر سے جن پر میرا پہلی جنگ آزادی کی وجہ سے یقیناً حق ہے کہتا ہوں کہ پاکستانی حکومت کی مذکورہ بالا تجاویز کو کامیاب کرنے کے لئے وہ پوری طرح تعاون کی روح کا مظاہرہ کہ میں کشمیر اگر پاکستان سے ملا تو دوسروں کا ہی نہیں ان کا بھی فائدہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے اور ان اسباب کو دور کر دے جو تفرقہ اور شقاق کا موجب ہوتے ہیں یا راہ ۲۰۰ ۱۳ ۱۹۲۹ء کی یہ خصوصیت نائیجیریا، انگلستان اور امریکہ میں کامیاب بلا ہی لیے ہے کہ اس سال نائیجیریا اور نکلے کی احمدی جماعتوں نے سالانہ مجلسوں کا سلسلہ شروع کیا اور امریکہ کی دوسری کا نفرنس منعقد ہوئی۔یہ سب اجتماعات خدا کے فضل و کرم سے بہت کامیاب رہے۔چنانچہ شه انقلاب لاہور ۱۸ مئی ۱۹۲۹