تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 99 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 99

۹۸ ایسی یا فولادی کہ آپ بے چین ہو کر تڑپ اٹھے مگر آپ نے اپنے قلبی غم واندوہ کو کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا اور کمال ضبط نفس کا ثبوت دیتے ہوئے چند منٹ تک بالکل خاموشی اختیار کئے رکھی چنانچہ فرماتے ہیں:۔یکن تھوڑے دن ہوئے کشمیر کے محاذ پر فرقان فورس دیکھنے گیا۔فرقان فورس والوں نے میرے کھانے کا انتظام کیا ہوا تھا ئیں جب وہاں گیا تو ایک جگہ پر ہاتھ دھلانے کے لئے دو چھوٹے لڑکے کھڑے تھے۔مجھے بڑا تعجب تھا کہ جس جگہ جاتے ہوئے بڑی عمر والے اور پختہ کار لوگ ہچکچاتے ہیں وہاں پر یہ چھوٹی عمر کے دونوں بیچتے آئے ہوئے ہیں اور خوشی سے اپنی ڈیوٹی کو نبھارہے ہیں۔وہ دونوں ہاتھ دھلانے کے لیئے وہاں کھڑے تھے۔چھوٹی عمر میں اتنی بڑی قربانی کرنے کی وجہ سے مجھے ان کا یہ فعل پیارا لگا اور نادانی اور غفلت ہیں میں نے سوال کیا کہ تم کہاں سے آئے ہو۔ئیں نے خیال کیا کہ وہ کہیں گے کہ ہم گجرات سے آئے ہیں ، جہلم سے آئے ہیں، راولپنڈی سے آئے ہیں یا سیالکوٹ سے آئے ہیں۔بین ان سے کوئی دوسیرا جواب سننے کے لئے تیار نہیں تھا لیکن میں نے جب یہ سوال کیا کہ تم کہاں سے آئے ہو تو ان دونوں لڑکوں نے بے اختیار کہا ہم قادیان سے آئے ہیں۔مجھے یہ جواب سننے کی امید نہ تھی اس لئے مجھے اپنی حالت کو سنبھالنے کے لئے بہت زیادہ جد وجہد کی ضرورت پڑی میرے ساتھ اس وقت اخباروں کے نمائندے بھی تھے اور بعض دوسرے افسر بھی۔میں نے زور سے اپنی زبان دانتوں میں بالی۔میں نے ایسا محسوس کیا کہ اگر میں اپنے آپ کو نہیں روکوں گا تو میری چیخیں نکل جائیں گی کئی غیر احمدی بھی اس وقت مجھ سے ملنے کے لئے آئے ہوئے تھے لیکں نے ان سے کوئی بات نہیں کی اور میں بات کر یہی نہیں سکا تھا۔انہوں نے شاید یہ بجھا ہوگا کہ میں بہت مغرور ہوں اور ان کے ساتھ بات کرنا نہیں چاہتا لیکن میں مختصر جواب دے کر اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔پندرہ بیس منٹ بعد جا کر کہیں میری طبیعت سنبھلی اور میں بات کرنے کے قابل ہوا۔غرض یکں نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ میں قادیان کے چھوٹ جانے پر غم نہیں کروں گا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں۔آپ لوگ بھی اپنے تمام جوشوں کو دباتے چلے جائیں خدا تعالیٰ وہ وقت جلد لے آئے گا جب تمہارے دبائے ہوئے جذبات ایک طوفان کی شکل اختیار کریں گے اور وہ طوفان ہر قسم کے خس و خاشاک کو اڑا کے پر سے پھینک دے گا لیکن جب تک وہ مرکزہ جماعت کو نہیں ملتا سب جماعت کو ایک دوسرے مرکز کی طرف منہ کر نا ہوگا کیونکہ مرکز کے بغیرکوئی حاجات نہیں رہسکتی است ه الفضل در احسان ۱۳۲۸۵ ۵۰ |