تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 100
44 انین حمایت اسلام کے مشاعر یا احمدی شاعر کے کام کی تولیت اور نان نفقہ کو انجی ہیں۔حمایت اسلام لاہور کا ایک مشاعرہ ہوا جس میں جناب ثاقب زیر وی صاحب نے ایک نظم پڑھی جو حاصل مشاعرہ بھی گئی۔گورنر جنرل الحاج خواجہ ناظم الدین صاحب نے مشاعرہ میں اس نظم کو دوبارہ سننے کی فرمائش کی اور یہ اعزاز اکسس نشست میں کسی دوسرے شاعر کو نصیب نہ ہوسکا۔دوسرے دن لاہور کے تقریباً تمام اخبارات میں اس نظم کا چرچا تھا چنانچہ اخبار انقلاب نے ۲۸ مارچ کر منہ کالم ملے پر ثاقب نے سب کو مات دی“ کے عنوان سے حسب ذیل خبر شائع کی۔لاہور ۲۶ مارچ۔انجمن حمایت اسلام کے مشاعرے میں ایک انیس سالہ نوجوان شاعر صدیق ثاقب زیر وی کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ہر ایک ایسی گورنر جنرل پاکستان نے اُس سے فرمائش کی کہ وہ تیسری بار اپنا کلام شنائے۔اس مشاعرے میں بڑے بڑے شعراء نے حصہ لیا لیکن عوام اور خواص سب نے ثاقب کے کلام کو اتنا پسند کیا کہ اسے تین بار سٹیج پر بلایا گیا۔یہ عادت کسی اور کو حاصل نہیں ہوئی۔ثاقب کی نظم کا عنوان تھا میرا جواب ، جو ایک اخبار پولیس کی طرف سے شراب کی پیش کش پر کی گئی تھی۔یہی نظم خواجہ ناظم الدین کر خاص طور پر پسند آئی اور انہوں نے اسی کو دوبارہ پڑھوایا۔جماعت احدیت وفاداریوں کا نایاب نے ایک مضمون ماعت احمدی اور حکومت مجاز کی وفاداری ا م ا ا ا ا ا ا را که دوستان پاکستان میں یہ اعتراض اٹھا یا کہ کے احمدی اس وقت تک اپنی اپنی حکومتوں کے وفادار رہیں گے جب تک ان کے امام جماعت کی طرف سے ایسا حکم ہوگا جب اُن کا حکم نہیں رہے گا ان کی وفاداری بھی ختم ہو جائے گی۔اس اعتراض کے جواب میں حضرت صلح موعود ضہ نے " جماعت احمدیہ اور حکومت مجاز کی وفاداری کے عنوان پر حسب ذیل مضمون سپر قلم فرمایا۔۔ہماری جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ اسلام کے رو سے جس حکومت میں بھی کوئی شخص رہے اس حکومت کا اسے وفادار رہنا چاہیے۔اگر کبھی حالات خلان ہو جائیں اور وہ وفادار نہ رہ سکے تو اُسے اس ملک سے ہجرت کر جانی چاہئیے۔انگریزوں کے زمانہ میں اس عقیدہ کی وجہ سے ہندوؤں ہنگھوں اور