تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 72
احمدیہ شفاخانہ کے قیام کے وقت ڈاکٹر صاحب کے پاس دو صاحب بطور ڈسپنسر کام کرتے تھے۔تین ماہ بعد ایک صاحب پاکستان چلے گئے۔چونکہ کام زیادہ تھا اس لئے دو درویش احباب کو ڈسپننگ کی ٹریننگ کے لئے شفا خانہ میں رکھ لیا گیا۔ان میں سے ایک محمد احمد صاحب مالا باری اور دو سر مبارک علی صاحب واقعت زندگی تھے۔مبارک علی صاحب تھوڑے ہی عرصہ میں پوری ٹریننگ حاصل کر کے تسلی بخش کام کرنے لگے اور قریباً دس ماہ کام کرنے کے بعد مولوی فاضل کلاس میں داخل ہو کہ یہ کام چھوڑ دیا۔ان کی جگہ ایک اور درویش مکرم ملک بشیر احمد صاحب ناصر کو کام پر لگایا جو بہت جلد کام سیکھ کر شفاخانہ کے لئے مقید وجود ثابت ہوئے۔مکرم غلام ربانی صاحب ، مکرم ملک بشیر احمد صاحب اور مکرم محمد احمد صاحب مالا باری کو بطور ڈسپنر کام کرنے کا موقعہ ملا۔کیونکہ قادیان میں کوئی لیبارٹری نہ تھی اور پیشاب، پاخانہ اخون بلغم وغیرہ ٹیسٹ کروانے کے لئے مریض کو امرتسر بھجوانا پڑتا تھا اس لئے یہ ہش کے مشروع ہیں۔ایک مائیکروسکوپ اور لیباریٹری کا ضروری سامان خرید کر چھوٹے پیمانہ پر لیباریٹری کا کام بھی شروع کر دیا گیا۔اس کے بعد پیش میں مستورات کی مخصوص امراض کے علاج کے لئے ایک نرس کی خدمات بھی حاصل کر لی گئیں لیے الحمد للہ یہ شفا خانہ جس کی بنیاد میجر ڈاکٹر محمود مرحوم کے ہاتھوں پڑی اور جس کو ترقی دینے میں کیپٹن بشیر احمد صاحب نے ساڑھے سات سال محنت شاقہ سے کام لیا تھا اب تک نہایت کامیابی سے چل رہا ہے اور خدمت خلق میں مصروف عمل ہے۔اُن دنوں دیار حبیب میں رہنے والے درویشوں کے شب و روز درویشان قادیان کے کیل ہار کس طرح ایک پاک اور روحانی ماحول میں بسر ہو رہے تھے اس کا نقشہ ناظر بیت المال جناب عبد الحمید صاحب عاجز نے درج ذیل الفاظ میں کھینچا :- دار الامان میں ٹھہرنے والے درویشوں کی کل تعداد ۳۱۳ ہے جو قادیان کے مقامی احباب ، بیرونی خدام اور کارکنان صدر انجمین احمدیہ پشتمل ہے۔مقامی امیر مکرم جناب مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ مواد یفا مثل (ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ) ہیں۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں سے حضرت صاحبزادہ ه رساله درویش قادیان فتح اردسمبر انا مش و صلح اجنوری سایش صفحه ۶۸ - ۷۱ 3140 ا فضل ۲۰ احسان جون سرمایش صفحه ۵، الفضل در فتح دسمبر ابش صفحه ۹۶