تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 71
۶۶ پہلے تو آپ پسند در ولیوں کی معیت میں جایا کرتے تھے لیکن آہستہ آہستہ خطرہ دور ہوتا گیا اور پھرڈاکٹر صاحب نے اکیلے ہی بجانا شروع کر دیا۔اس طرح قریبی گاؤں میں جانے کے لئے بغیر ٹانگہ اور تین چار ہمرائیوں کے جانا خطرہ سے خالی نہ تھا۔یہ خطرہ بھی پھر رفتہ رفتہ دور ہو گیا اور آپ تنہا ہی سب طرف مریض دیکھنے نکل کھڑے ہوتے۔اور کچھ عرصہ بعد تو خدا کے فضل سے ہر جگہ دن ہو یا رات جانے میں کوئی رکاوٹ در رہ گئی۔ماه محبت اسی مشن کے بعد شفاخانہ کی ساتھ والی دکان شامل کر کے اس کی توسیع عمل میں آئی۔لیکن چند روز بعد جب یہ جگہ بھی ناکافی ثابت ہوئی تو حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب والا مکان خالی کروا لیا گیا۔اس کی پھلی منزل میں دفتر کنسٹیشن ، ڈریسنگ ، ڈسپنسنگ، اوپریشن روم کے لئے علیحدہ علیحدہ کمرے بنائے گئے۔بالائی منزل میں دو کمروں کو درویشوں کے لئے بطور بنا لیا گیا اور باقی حصہ میں دو ڈسپنسر اور ایک مدد گار کا رکن کی رہائش کا انتظام کر دیا گیا شقا تھانہ میں جو آمد متمول مریضوں سے ہوتی اس سے شفا خانہ کے لئے سامان و ادویات خرید کولی بھائیں اور خدا کے فضل سے ایک سال کے عرصہ میں عام استعمال کی ادویات و سامان شفا خانہ میں فراہم ہو گیا اور سوائے ابتدائی ۸۰ روپیہ کے شفاخانہ کو نہ مزید کسی سے امداد کی ضرورت پڑی نہ صدر امین احمدیہ کے خزانہ پر کوئی بوجھ ڈالا گیا جوں جوں ارد گرد کے علاقہ میں شفاخانہ کی شہرت پھیلتی گئی مریض بھی بکثرت آنے لگے۔بعض غیر مسلم دُور دُور سے محض اس غرض سے آتے تھے کہ قادیان میں مسلمانوں کو دیکھ آئیں کے اور دوا وغیرہ بھی لیتے آئیں گے۔اور پھر تو خدا کے فضل سے آہستہ آہستہ ایسی شہرت حاصل ہوئی کہ تمام مضلع گورداسپور کی مختلف جگہوں بلکہ ضلع امرتسر ہی سے نہیں شہر امرتسر سے بھی مریض آنے لگے۔پہلے سال شفاخانہ نے کوئی غیرمسلم انڈور میں نہیں رکھا کیونکہ خطرہ تھا کہ کوئی حادثہ نہ ہو جائے۔لیکن دوسرے سال شفاخانہ کے سامنے والا مکان جس میں دو چھوٹے چھوٹے کمرے تھے خالی کرا لیا گیا۔سال رمیش میں آؤٹ ڈور مریضوں کی کل تعداد ۳۱۲۴۶ تھی جو سال پر میش میں ۴۵۳۴۹ A۔YA۔تک پہنچ گئی۔اس سال انڈور میں ۲۳۱ مریض تھے جن میں کثیر تعداد غیر مسلموں کی تھی۔سال ۱۳۳ پیش میں ۴۱۷۹۰ مریضوں کا علاج آؤٹ ڈور اور ۲۰۰ مریضوں کا مزاج انڈور کیا گیا۔۳۳ ریش کے الفاء / اکتوبر تک کل تعداد آؤٹ ڈور کے مریضوں کی ۲۸۶۰۱ اور انڈور کی ۲۰۰ تھی۔