تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 70 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 70

مشکلات کے پیش نظر دوسرے دن اپنے داماد کو چارپائی پر اکٹھا کو بہشتی مقبرہ کے گیٹ تک لیے اٹھی ڈاکٹر صاحب نے وہاں بجا کہ مریض کو دیکھا اور ایک درویش کے ذریعہ دوا بھجوا دی۔دو تین روز اور مرایض کو افاقہ ہوگیا اور بڑھیا پکٹنگ والوں کی پروانہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صائب کی دکان پر آگئی اور دو تین روز بعد اس کا داماد دو نمین اور مریضوں کو ساتھ لے کر آگیا اور چند ہی روز بعد آس پاس کے جہا بھر بھی آنا شروع ہو گئے۔پندرہ روزہ کے اندر اندر مریعیتوں کی تعداد ۳۰ ، ہم روزانہ تک پہنچ گئی۔۔اس طرح کینگ اور بائیکاٹ عملاً بالکل بیکار ہو کر رہ گیا۔اور مریضوں کی آمد کے ساتھ ساتھ بعض غیر مسلم دودھ اسبری و دیگر نه وریات زندگی بیچنے کے لئے آتا بھی شروع ہو گئے۔ڈاکٹرا سالہ علی صاحب کی دکان فسادات کے بعد بالکل معالی تھی۔اس میں صرف ایک میز اور دو خالی الماریاں اور پر رشیشیاں بڑی تھیں جن میں بعض میں بچھی ہوئی ادویات تھیں۔دو پرانے اور زنگ آلود چاقو اور دو ایک قینچی کے علاوہ کوئی دوسرا سامان نہ تھا۔فرنیچر وغیرہ کا انتظام تو سٹور سے کر لیا گیا۔بردویات اور دیگر سامان مہیا کرنا ناممکن نظر آرہا تھا۔دار مسیح اور قرب و جوار کے مکانات میں سے جہاں سے بھی کوئی بوتل شیشی غیرہ مہیا، دوسکی شفا خانہ میں جمع کر لی گئی۔ان میں سے بعض میں کار آمد ادویات بھی بہتا ہوگئیں۔اس اثناء میں گورنمنٹ کی طرف سے تقریباً مبلغ یکصد روپیہ کی مالیت کی چند ادویات ریفیوجی فنڈ سے درویشوں کو دی گئیں۔اس عطیہ کو شکریہ کے ساتھ قبول کیا گیا۔غیر ملم مریقہ ں کی حاضری روز بروز زیادہ ہوتی گئ اور تمام ، وائیں ختم ہوگئیں۔اس موقعہ پر ایک معترز سکھ دوست کے ذریعہ مبلغ ۸۰ روپیہ کی ادویات امرتسر سے منگوائی گئیں یہ شہادت / اپریل یا ہجرت / مئی ایش تک مریضوں کی تعداد 9 سے۔۔ا تک روزانہ پہنچ گئی۔شفاخانہ کے ذرائع آمد مسدود ، اور فنڈ می رود کوتا۔اس لئے فکر پیدا ہوئی کہ اتنے مریضوں کے اخراجات کیسے پورے ہو سکیں گے بچنا نچہ ڈاکٹر صاحب نے انجمن سے اس بات کی اجازت لی کہ غیر مسلم ذی استطاعت مریضوں سے علاج کیے معاوضہ میں آند دو آنہ وصول کرنے کی کوشش کی جائے چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ میں سو ڈیڑھ سو روپیہ جمع ہو گیا میں سے مزید ادویہ انور سامان خریدا گیا اور اس طرح عوام کے علاج میں سہولت پیدا ہو گئی۔ڈاکٹر صاحب اور دوسرے، درویش اپنے علاقہ سے باہر نہ بھا سکتے تھے۔جوں جوں: مریض زیادہ آتے گئے۔ان میں سے بعض کو دیکھنے کے لئے ان کے گھروں میں بھانا پڑا تا اور اس کے لئے خاص اہتمام کو نا پھرتا