تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 59 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 59

۵۴ اخبارات میں تفصیلی خبر اور حضرت امیر المومنین سیدنا و امامنا و مرشدنا المصلح الموعود شما خطاب اتنا اثر انگیز اور پر جذب تھا کہ صحافیوں نے جبلی اور جماعت احمدیہ کو خراج تحسین شہ سرخیوں سے اس کی مفصل خبر شائع کی اور جماعت احمدیہ اس کے امام ہمام کو اس عزم و ہمت پر خراج تحسین ادا کیا ا۔اخبار احسان نے لکھا:۔مغربی پنجاب میں امریکی طرز پر ایک نئے شہر کا کام شروع ہو گیا یہ شہر میں لاکھ کے مصر سے ایک سال میں مکمل ہو جائیگا اہور ۱۸ نومبر جماعت احمدیہ کے امیر مرزا بشیر الدین محمود احمد کی دعوت پر مقامی اخبار نویسوں کی ایک پارٹی جماعت احمدیہ پاکستان کے نئے مرکز ربوہ کو دیکھنے گئی جو لاہور سے کوئی ایک سو میل اور چنیوٹ سے پانچ میل کے فاصلہ پر دریائے چناب کے غربی کنارے چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے وائن میں ایک بے آب و گیاہ غیر مزرعہ اور نا قابل آبادی قطعہ زمین پر آباد کیا جا رہا ہے۔زمین کا پیڈ کیا جو ایک ہزار پونتیں ایک کا پرمشتمل ہے اور جسے حکومت سے خرید لیا گیا ہے ان دنوں جماعت احمدیہ کی سرگرمیوں کا مرکز بن رہا ہے۔یہاں ربوہ نام سے امریکی طرز پر ایک جدید تمرین شہر زیر تعمیر ہے جس کی لاگت کا ابتدائی اندازہ کوئی پچیس لاکھ روپے کے قریب لگایا گیا ہے جائے وقوع کے لحاظ سے ربوہ لائل پور اور سرگودھا کے عین وسط میں واقع ہے۔اس کے تین طرف تو چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں قدرتی ڈیفنس کے طور پر کھڑی ہیں لیکن جنوب مغربی سمت سے یہ کھلا پڑا ہے اور اس کا سلسلہ دور تک، مزروعہ زمین سے ملتا چلا گیا ہے ریلوے لائن اور پختہ سڑک اس قطعہ زمین کے پاس سے گزرتی ہیں۔لیکن زمین میں مادہ شور ہونے کی وجہ سے کئی کئی میل تک آبادی کا کہیں نام و نشان نہیں۔صبح نو بجے روانہ ہو کہ اخبار نویسوں کا قافلہ کوئی تین گھنٹے میں ربوہ پہنچ گیا جہاں سینکڑوں رضا کا رشیے وغیرہ نصب کرنے میں مصروف تھے۔اخبار تویسوں کے علاوہ اس قافلہ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد ، صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، مرزا بشیر احمد ، نواب محمد الدین، چودھری اسد اللہ خاں شیخ بشیر احمد ، مسٹر عبدالرحیم درد اور چودھری نصراللہ خاں شامل تھے۔اور