تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 58 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 58

۵۳ کہ ہمیں یہ زمین کتنی مہنگی پڑے گی اور اس پر سلسلے کو کس قدر محنت اور مشقت کرنی پڑے گی۔حضور نے اس کے علاوہ معدود اربعہ اور مغربی پنجاب کی ہندوستان سے لگنے والی سرحدوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ جگہ صوبے کے عین وسط میں پڑتی ہے اور اگر اسی کے محل وقوع میں خالی قطعات ارض پر حکومت جدید نمونے کے صنعتی شہر آباد کرائے تویہ شہر پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کا کام دے سکینگے۔حضور کے خطاب کے بعد چند ضروری کاموں کی ویبہ سے پاکستان ٹائمز کے مدیر اعلیٰ کرنل فیض احمد صاحب ، مسٹر عثمان صدیقی ،شیخ بشیر احمد اور عبد الرحیم صاحب پراچہ واپس تشریف لے آئے حضور ان مہمانوں کو سڑک تک چھوڑنے کے لئے پیدل تشریف لے گئے۔جناب فیض صاحب کے روانہ ہونے کے بعد اخبار نویسوں کا یہ مجمع بیٹھنے کے لئے مخصوص شیمے میں آگیا جہاں مدیہ اسلئے روزنامہ انقلاب جناب سالک نے اپنے کلام بلاغت نظام سے محفوظ فرمایا۔یہ شعر و شاعری کا دور ابھی شروع تھا کہ ناز سے فراغت کے بعد حضور کا پیغامبر یہ پیغام لئے ہوئے پہنچا کہ آؤ ذرا دیوہ سے آگے پندرہ سولہ میں چل پھر آئیں۔چنانچہ یہ سالی سے کا سارا قافلہ کاروں پر سوار ہو کو کئی ہزار ایکڑ بنجر زمین کے ایک میدان میں آگیا جس کے شمال میں بہت اونچی پہاڑیوں کا ایک لمبا سلسلہ تھا۔ٹکڑے کی اہمیت کی وضاحت کے بعد پہاڑیوں کی بلندی پر بنے ہوئے چند مکالو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس پر ہندو یوگیوں کی ایک لیستی تھی اور یہ بستی پورے ہندوستان کے سارے یوگیوں کا مرکز تصور ہوتی تھی۔اسے پنجابی میں بھگت بالناتھ کا ٹلہ یا ٹیلہ بھی کہا جاتا ہے۔واپسی پر حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب اور اُن کے رفقار کار (مولوی عبد الرحمن صاحب اتور اور چودھری عبد السلام صاحب اختر نے مہمانوں کو پھائے پلائی اور چائے کے بعد قریباً پانچ بجے انتہائی خوشگوار ماحول میں جریدہ نگاروں کا یہ قافلہ حضور کے ہمراہ واپس لاہور کے لئے روانہ ہوا۔راستے میں اگر شست روی کی وجہ سے کوئی کار قافلے سے دُور رہ بھائی تو حضور انور اپنی کار روک لیتے جب تک ساتھ نہ آملتی۔المختصر یہ قافلہ حضرت مصلح موعود کی قیادت میں ٹھیک سوا آٹھ بجے شب واپس رتن باغ لاہور آپ نے گیا۔ہے ے روزنامہ " پنسل " لاہور و ماه نبوت / نومبر میشه ار تو تیم