تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 286
و قه رب ادخلني مدخل صدق اور قل جاء الحق وزهق الباطل، والى وعاد برائی اورب دوستوں نے بلند آواز سے آپ کی اتباع کی۔اس کے بعد حضرت صاحب نے مختصر طور پر اس دعا کی تشریح فرمائی کہ یہ دعا وہ ہے جو مدینہ کی ہجرت کے وقت آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سکھلائی گئی تھی اور اس میں ادخانی (مجھے داخل کر کے الفاظ کو اخر جینی مجھے نکال کے الفاظ پر اس لئے مقدم کیا گیا ہے تاکہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جائے کہ مدینہ میں داخل ہو کو رک جانا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کی غرض وغایت نہیں ہے بلکہ یہ صرف ایک درمیانی و سطر ہے۔احساس کے بعد پھر مدینہ سے نکال کر مکہ کو واپس حاصل کرنا اصل مقصد ہے اور پھر اس کے ساتھ قل جاد الحق والی وی کو شامل کیا گیا تا کہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جائے کہ مومن کی ہجرت حقیقت اعلام کلمتہ اللہ کی غرض سے ہوتی ہے نیز اس میں اس باتہ کی طرف بھی اشارہ ہے کہ محمد رسول اشد صلی علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت خدا کے فضل سے مقبول ہوئی ہے کیونکہ خدا نے اس کے ساتھ ہی حق کے قائم ہونے اور باطل کے بھاگنے کے لئے دروازہ کھول دیا ہے اور پھر اسی تمثیل کے ساتھ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالی نے قادیان کا ذکر کیا۔کہ ہم بھی ت ادیان سے نکالے جا کر ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔مگر ہمارا یہ کام نہیں کہ اپنی ہجرت گاہ میں ہی دھرنا مار کر بیٹھے جائیں۔بلکہ اپنے اصل اور دائمی مرکز کو واپس حاصل کرنا ہمار اصل فرض ہے اس تقریر کے بعد جس میں ایک طرف موٹروں میں بیٹھے بیٹھے مستورات بھی شریک ہوئی تھیں حضرت امیر المومنین اپنی ربوہ کی عارضی فرودگاہ میں تشریف لے گئے جو ریلوے سٹیشن کے قریب تعمیر کی گئی ہے۔میں نے اس فرودگاہ کو عارضی فرودگاہ اس لئے کہا ہے کہ اب تک جتنی بھی عمار نہیں ربوہ میں بنی ہیں وہ در اصل سب کی سب عارضی ہیں۔اور اس کے بعد پلاٹ بندی ہونے پر مستقل تقسیم ہوگی اور لوگ اپنے اپنے مکان بنوائیں گے حضرت صاحب کے مکان میں ربوہ کی مستورات استقبال کی غرض سے جمع تھیں جن کی قیادت ہماری ممانی سیدہ ام داؤد صاحبہ فرما رہی تھیں۔اس کے بعد حضرت صاحب اور دوسرے نزول اور اہل قافل نے کھانا کھایا جو صدر انجمن احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لنگر خانہ کی طرف سے پیش کیا تھا نایا ربوہ وارد ہونے کے معابعد یہ پروگرام بھی تھا کہ حضرت صاحب اپنی مجوز مستقل داشتن گار کے ساتھ متصل زمین میں مسجد کی بنیاد بھی رکھیں گے۔لیکن چونکہ اس مسجد کی دانا بیل یں کچھ غلطی نظر آئی اس لئے اسے کسی دوسرے وقت پر ملتوی کر دیا گیا۔عصر کی نماز حضور نے اس