تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 285
یہ دعا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے چناب کا پل گزر کر اور قبلہ رخ ہو کر ربوہ کی سرزمین کے کنارے پر کھڑے ہو کر کئی دفعہ نہایت سونا اور وقت کے ساتھ دہرائی اور اس کے بعد موٹروں میں بیٹھ کر آگے روانہ ہوئے۔کیونکہ ربوہ کی موجودہ بستی چناب کے میں سے تقریبا دو میل آگے ہے۔اس عرصہ میں بھی سب دوست اوپر کی دعا کو مسلسل دہراتے چلے گئے جب ربوہ کی بستی کے سامنے موٹریں پہنچیں تو اس وقت ریوہ اور اس کے گردو نواح کے سینکڑ ٹول دوست ایک شامیانے کے نیچے حضرت صاحب کے استقبال کے لئے جمع تھے۔اس وقت جب کہ میں ڈیڑھ بجے کا وقت تھا سب کے آگے حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالے کی موٹر تھی۔اس کے بعد ہماری موٹر تھی۔اس کے بعد غائب سیدہ بیٹری بیگم صاحبہ مہر آپا کی موٹر تھی۔اس کے بعد حضرت صاحب کی صاحبزادیوں کی موٹر تھی۔اور اس کے بعد غالباً محترمی شیخ بشیر احمد صاحب کی موڑ تھی۔جب حضرت صاحب اپنی موٹر سے اترے تو ربوہ کے چند نمائندہ دوست جن میں محترمی مرنا اگر یہ احمد صاحب ایم اے ناظرا علے اور محترمی سید ولی اللہ ثہ صاحب ناظر امور عامه " امیر مقامی اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور عزیز ڈاکٹر منوراحمد سلمہ اللہ اور بعض ناظر صاحبان اور تحریک جدید کے کلام سبائی اور محترمی مولوی ابو العطار صاحب وغیرہ شامل تھے آگے نے اور حضور کے ساتھ مصافحہ کر کے حضور کو اس شامیانہ کی طرف لے گئے جو چند گز مغرب کی طراف نصب شدہ تھا۔اور حسین میں دوسرے سب دوست انتظار کر رہے تھے۔حضرت حمام سب اس وقت بھی رب از خلني مدخل صدق والى وعاد مرا رہے تھے اور وہ سروں کو بھی ہدایت فرماتے تھے کہ میرے ساتھ ساتھ یہ دعا د ہراتے جاؤ۔شامیانے کے نیچے پہنچ کر حضرت صاحب نے وضو کیا اور پھر سب دوستوں کے ساتھ قبلہ رخ ہو کہ ظہر کی نماز ادا فرمائی۔یہ گویا درود ریوہ کا سب سے پہلا کام تھا۔نماز اور سنتوں سے فارغ ہو کہ حضور نے ایک مختصر منی تقریر فرمائی۔جس میں فرمایا کہ میں امید رکھتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کی سنت کو سامنے رکھ کر آپ لوگ رستہ تک آگئے اگر استقبال کریں گے تاکہ ہم سب متحدہ دعاؤں کے ساتھ ربوہ کی سرزمین میں داخل ہوتے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا اس لئے اب میں اس کی کو پورا کرنے کے لئے پھر اس دعا کو دہراتا ہوں اور سب دوست بلند راز سے میرے پیچھے اس دعا کو دہراتے جائیں چنانچہ آپ نے شاید مین یابانی