تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 287
مسجد میں ادا فرمائی تو حضور کے عارضی مکان کے قریب ہی عارضی طور پر بنائی گئی ہے۔اور اسی لئے اسے مجد کی بجائے ، جائے نماز کا نام دیا گیا ہے۔کیونکہ بعدمیں یہ مسجد منتقل جگہ کی طرف نقل کر دیا جائے گی۔یہ جائے نماز ایک کھلے چھپر کی صورت میں ہے جس کے نیچے لکڑی کے ستونوں کا سہلا دیا گیا ہے۔اور اس کے سامنے ایک فراخ کچا صحن ہے اور اس مسجد کے علاوہ بھی ایک دو عارضی مسجدیں رابعہ میں تعمیر کی جا چکی ہیں کیونکہ اس وقت ربوہ کی آبادی ایک ہزار نفوس کے قریب بتائی جاتی ہے اور آبادی کی نوعیت بھی ایسی ہے کہ عام نمازوں میں سب دو نقل کا ایک مسجد میں جمع ہونا مشکل سمجھا گیا ہے۔عصر کی نماز کے بعد دوستوں نے حضور سے مصافحہ کا شرف بھی حاصل کی الیم سفر ربوہ کے چند لقیہ واقعات ا حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ کے اس یادگاری سفر کے پیش نظر ا حجاب ربوہ نے پانچ بکروں کے ذبح کرتے کا بھی انتظام کیا تھا۔کیو نکہ خاص موقعوں پر یہ بھی ایک مسنون طریق ہے۔کر دلی کے ذبحہ کرنے کے علاوہ ربوہ کی جماعت نے اس موقعہ پر پٹریوں کو کھانا کھلانے کا بھی انتظام کیا تھا۔چنانچہ بہت سے غریبوں کو دعا اور تو بلا کی غرض سے کھانا کھلایا گیا۔سیر الی ربوہ نے بار میں کچھ قدرت بھی تقسیم کرنے کا انتظام کیا تھا کہ یہ بھی ایسے مو قعون برکت کا ایک ردھانی ذریعہ ہے۔- دوپہر کے کھانے کے بعد جو حضرت مسیح موعود کے لنگر کی طرف سے صدر انجنین احمدیہ نے پیش کیا۔شام کا سے کے کی س ص د انجن نے کھانا اہل ربوہ کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔سید نا حضرت مصلح موعود اپنی ذات میں تجلیات الہیہ امر برکات ربانی کا زندہ اور چلتا پھر یا نشان تھے اور آپ کے نزول کو آسمانی نوشتوں میں بہت مبارک قرار دیا گیا تھا۔مگر یہ مبارک سفر تو خدائی برکتوں کا 417 ایک دریائے نور اپنے ساتھ لایا جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نقاد کے آخری درجہ تک پہنچنے والے مقربان بارگاہ الہی کے اقتداری خوارق کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔ه الفضل ۲۲ توکی تیر ۱۳۲۸ ش ۲۹ ۱۵ و ن الفضل ۲۷ تبوک شمبر ۱۳۲۶ بیش / ۲۰۱۹۲۹