تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 284
احول کے مناظر سُلطَانًا نَّصِيرًا - چنانچہ اس دعا کے درد کے ساتھ ت فلہ روانہ ہوا۔اور راستہ میں بھی یہ دعا برابر جامد ی ر ہیں۔چونکہ روانگی میں دیرہ ہوگئی تھی اس لئے موڑیں کافی تیز رفتاری کے ساتھ گئیں اور سفر کا آخری حصہ تو غالباً ستر پچھتر میل فی گھنٹہ کی رفتار سے طے ہوا ہو گا اور اسی غرض سے راستہ میں کسی جگہ ٹھہرا بھی نہیں گیا۔ہی وجہ ہے کہ محر می شیخ البشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور کی موڑ جو لاہور سے قریبا ڈیڑھ گھنٹہ پہلے مانہ ہوئی تھی اور اس میں محترقی مولوی عبد الرحیم صاحب در در بھی بیٹھے ہوئے تھے۔وہ نہیں راستہ میں ہی ربوہ کے قریب جناب کے پل پر مل گئی تھی یہ گویا اس سفر کی پانچویں موٹر تھی۔اس کے علاوہ ایک چھٹی موڑ بھی تھی۔جس میں محترمی ملک محمد علی صاحب رمیں ملتان اور ہمارے بعض دوسرے ۶ نیہ بیٹھے تھے لیکن چونکہ یہ موٹر چونکہ بعد میں چلی اور زیادہ رفتار بھی نہیں دیکھ سکی اس لئے وہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے ربوہ میں داخل ہونے کے کچھ عرصہ بعد پہنچی۔چناب کا پل گزرنے کے بعد جس سے آگے ربوہ کی سر زمین کا آغازہ ہوتا ہے۔حضرہ امیر المومنین ایدہ اللہ تو لے بنصرہ العزیزہ اپنی لاڈ سے اتر آئے اور دوسرے سب ساتھی بھی اپنی اپنی موٹروں ال اور بھی سے اتر آئے۔البتہ مستورات موٹروں کے اندر بیٹھی رہیں اس جگہ اتر کر بعض دوستوں نے اعلان کی غرض سے اور اہل راجہ تک اطلاع پہنچانے کے خیال سے راہ اور اور رائفل کے کچھ کارتوس ہوا میں چلائے اس کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے رفقاء میں اعلان فرمایا کہ میں یہاں قبلہ رخ ہو کر مسنون دعا کرتا ہوں۔اور ہمارے دوست بھی اس دعا کو بلند آواز سے، وہراتے جائیں اور مستورات بھی اپنی اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے یہ دعا دہرائیں۔اس کے بعد حضور نے ہاتھ اونچے کر کے یہ دعا کرنی شروع کی۔رب ادخلني مدخل صدق و اخرجني مخرج صدق واجعل لى من الألك سلطانا نصيرا وقل جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقاً۔یعنی اے میرے رب مجھے اس بستی میں اپنا بہترین پرکنوں کے ساتھ داخل کر اور پھر اے میرے آقا مجھے اس لیستی سے نکال کر اپنی اصل قیام گاہ کی طرف اپنی بہتری کہ کتوں کے ساتھ لے جا۔اور اسے مومنو تم خدا کی برکتوں کو دکھی اس آواز کو بلند کرد که حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔اور باطل کے لئے تو بھاگتا ہی مقدر ہو چکا ہے۔