تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 283
جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک یادگاری دن تھا۔۔۔۔۔اس لئے میں مختصر طور پر اس سفر کے چشم دید حالات تاریخ احمدیت کو ضبط میں لانے کی غرض سے درج ذیل کرتا ہوں۔در اصل گو میرا دنت ابھی تک لاہور میں ہے۔مگر میں نے اس سفر کی تاریخی اہمیت کو محسوس کچھہ کے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں انشاء اللہ اس سفر میں حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزیہ کے ساتھ جاؤں گا اور سفر اور ربوہ کی دعا میں شریک ہو کر اُسی دن شام کو لاہور واپس پہنچ جاؤں گا۔چنانچہ خدا تعالے نے مجھے اس کی توفیق دی جس کے نتیجہ میں ذیل کی چند سطور پی دی یا خون کرنے کے قابل ہوا ہوں۔حضرت امیرالمونین ایدہ اللہ تعالے انصرہ العزیز کا فیصلہ تو یہ تھا کہ انشا اللہ یہ تمبر ۱۹۴۹ء کو صبح ، بجے لاہور سے روانگی ہوگی مگر دفتری انتظام کے نقص کی وجہ سے یہ روانگی وقت مقرہ پر نہیں ہو سکی۔چنانچہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعا لئے آٹھ بجے صبح کی بجائے دس بج کر پچاس منٹ پر یعنی تقریباً گیارہ بجے رتن باغ لاہور سے بذریعہ موٹر روانہ ہوئے۔حضور کی موٹر میں حضرت ام المومنین اطال الله بف کہا اور حضرت سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ اور شاید ایک دو بچاں ساتھ تھیں اور حضور کے پیچھے دوسری موٹر میں حضرت صاحب کی بعض دوسری صاحبزادیاں اور ایک ہو اور بعض بچے اور میاں محمد اویہ عنف صاحب پرائیویٹ سیکڑی سوار تھے تیسری موٹر میں سید لیٹری بیگم مهر آپا صاحبہ اور محرقہ ام وسیم احمد صاحبہ اور بعض دوسرے بچے تھے اور ان کے پیچھے چوتھی موٹر میں خاک مرزا بشیر احمد اور میرے اہل و عیال اور معز بیزه آمنه بگیم سیال اور محترمی چوہدری عبدالمیں ر صاحب سپرنٹنڈنٹ انجنیر و اور میاں غلام محمد صاحب اختر اے پی او سوار تھے۔شاہدرہ سے کچھ آگے نکل کر حضرت صاحب نے اپنی موٹر روک کر انتظار کیا کیونکہ ابھی تک تیسری موٹر نہیں پہنچی تھی۔اور کچھ وقت انتظار کرنے کے بعد آگے روانہ ہوئے۔ایک لاری اور دوٹرک کافی عرصہ بعد روانہ ہوئے۔۔رین باغ سے روانہ ہونے سے پہلے حضرت امیر المرجین ایدہ اللہ تعالی استقر المرینی نے ہدایت فرمائی کہ سب لوگ رتی باغ سے روانہ ہوتے ہوئے اور مہر ربوہ کی سر زمین میں واجن ہوتے ہوئے یہ قرآنی دعا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی ہجرت کے وقت سکھائی گئی تھی۔ٹیڈ جیتے جائیں یعنی تَرَبِّ ادْخِلَنْ مَدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِ بَنِي مُخْرَجَ مِا في وَاجْعَلُ لِي مِن لَّدُنكَ