تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 282
فصل چهارم یایی روی بدن با تشرینی گری اور مرکز احمدیت کے نئے دور کا آغاز ۱۹ تبرک ستمبر ۱۳۷۸ ۱۹۴۹ء) کو مرکز احمدیت راوہ ایک نئے اور انقلاب آخری دور میں داخل ہوا۔کیونکہ اس روز حضرت مصلح موعود جو اب تک لاہور میں قیام فرما تھے مستقل طور پر تشریف لئے آئے۔اور حضور کے انفاس قدسیہ، اور روحانی توجہات کی بدولت نہ صرف یہ پاک دستی ایک فعال مرکز کی حثیت سے جلد جلد ترقی دارالفت کے منازل طے کرنے گی بلکہ غلبہ اسلام کی ہم مں پہلے سے زیادہ قوت و شرکت پیدا ہو گئی۔اور آسمانی بارش بہت کا ذکر قریب سے قریب تر نظر آنے لگا۔حضرت امیر المومنین المصلح الموجود کے اس اہم اور یادگار سفر ربوہ کی مفصل رود ار حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے قلم مبارک سے ہدیہ قارئین کی جاتی ہے۔فرماتے ہیں : و یوں تو حضرت امیرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تو لے بنصرہ العزیز کئی دفعہ ابو مالاری لے جا چکے ہیں اور گزشتہ جلسہ سالانہ بھی ربوہ میں ہی منعقد ہوا تھا جب کہ حضرت امیر المومین ایدہ اللہ تعالے نے مع اہل و عیال کئی دن تک ربوہ قیام فرمایا تھا۔لیکن یہ سب صفر عارضی تنگ رکھتے تھے اور ابھی تک حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالے کی مستقل سکونت رتن باغ لاہور میں ہی تھی لیکن بوسفر 9 ستمبر ۱۹۲۹ء کو بعد دو شنبہ اختیار کیا گیا وہ راجہ کی مستقل رہائش کی مومن سے تھا۔گویا دوسرے الفاخیر میں یہ ہماری قادیان سے ہجرت کی تکمیل کا دن تھا۔جب کہ خلیفہ وقت اور امام جماعت قادیان سے باہر ہونے کے بعد اپنی عارضی رہائش گاہ سے منتقل ہو کر جماعت احمدیہ کے قائم مقام مرکز ربہ یہ میں رہائش رکھنے کی عرض سے تشریف لے گئے پس پیشن