تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 281 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 281

دی۔چو ہد کا صاحب لکھتے ہیں کہ بالکل ایک ہی واقعہ اس وقت ہوا ہے نہیں ان کی بھاری کی اطلاع تک نہیں ملی اور اب دوفات کی خبر بھی صرف آپ کی طرف سے ملی ہے خاندان کے کسی اور فردگی طرف سے نہیں ملی۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے رشتہ داروں میں سے بھی کسی کو ان کی بیماری کی خبر نہیں ملی چوہدری محمد شہ ایف صاحب وکیل نے مجھے لکھی کہ وفات سے پہلے دان شام کے وقت ڈاکٹر آیا اور اس نے کہا کہ خطرہ کی کوئی بات نہیں۔جو مہدی عزیز احمد صاحب و سب مجھ ہیں) مجھے اطلاع کا خط لکھنے لگے تو اند صاحب نے منع کر دیا اور کہا کیا ضرورت ہے ؟ پس خواب میں ہم سے مراد صرف کلثوم ہی نہیں بلکہ سارے رشتہ دار مراد تھے میں نے یہ ذکر تفصیل کے ساتھ اس لئے کہا ہے کہ تا اس قسم کے لوگوں کے نیک انفعال اند کے لئے بطور یاد گار رہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔اذكر و أموتكم بالخير عام طور پر اس کے یہ معنے کئے جاتے ہیں کہ مردوں کی برائی بیان نہیں کرنی چاہیئے وہ قوت ہو گئے ہیں اور ان کا معاملہ اب خدا تھا لے اسے ہے۔یہ معنی اپنی جگہ درست ہیں لیکن در حقیقت اس میں ایک قومی نقطہ بھی بیان کیا گیا ہے آپ نے اذکر و المولی بالخیر نہیں فرمایا بلکہ آپ نے موت کا لفظ استعمال کیا ہے۔یعنی اپنے مردوں کا ذکر نیکی کے ساتھ کرو۔جس کے معنے یہ ہیں کہ آپ نے یہ صحابہ کے متعلق ارشاد فرمایا ہے۔دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں اصحابی کالنجومِ بِاتِّهُمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْمُ - میرے سب صحابی استادوں کی مانند ہیں تم ان میں سے جن کے پیچھے بھی ملو گے ہدایت پا جاؤ گے ابہ میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی خدمت دین کا موقعہ ایسا ملا ہے تیں ہیں وہ منفرد نظر آتا ہے اسی لئے آپ نے مو تا کم " کا لفظ استعمال فرمایا ہے کہ تم اُن کو ہمیشہ یاد رکھا " کرد تا تمہیں یہ احساس ہو کہ ہمیں بھی اس قسم کی قربانیاں کرنی چاہئیں۔اور تانوجوانوں اہمیشہ قربانی ایثار اور جمرات کا ان پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے بزرگ اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے رہیں نہ ان روزنامه الفضل امور وفات مطابق ۲۱ جولائی ۱۹۲۹ صلات۔طلابية -