تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 275
تم ۲ بعد رفتہ رفتہ قریباً سارا خاندان احمدی ہو گیا۔میں ۱۹ ء میں دہلی بندوبست میں اسسٹنٹ سینٹ آفیسر تھا۔میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر فاروق اسی بندو بست میں ناظر تھے۔میر صاحب جک کابینه پرت ادیان جارہے تھے میں نے اپنے لڑکے محمد شریف (حالی ایڈووکیٹ منشکری) کو تھا اس تایت پرائمری میں پڑھنا تھا میر صاحب کے ساتھ بھیج دیا وہاں اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواة و السلام کی بعیت کا شرف حاصل ہوا۔دہلی کے زمانہ میں محمد شریف کا چھوٹا بھائی محمد سعید چیچک سے سخنت بجاہ ہو گیا۔اس کی حالت نہایت تشویشناک تھی اور ہم قریبیا مایوس ہو چکے تھے۔میر قاسم علی صاحب نے دعا کے لئے حضرت مسیح موعود علی الصلاة والسلام کی خدمت میں تار دیا۔اور شام کو ہمیں تسلی دی کہ اس وقت قادیان میں محمدسعید کی صحت کے لئے دعا ہورہی ہے زیادہ مفکر نہیں کرنی چاہیے چپ اس قدر تھی کہ خطرہ تھا کہ اگر وہ بیچ بھی گیا تو اس کی آنکھیں نہیں بچے سکتیں کی جگہ اللہ تو نے نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی عالی برکت سے محمد سعید کو کامل شفا عطا فرمائی۔باوجود ان سب باتوں کے میری قسمت میں نہیں تھا کہ میں صحابی ہوتا۔اور مجھے اخلاص رکھنے کے باوجود بعیت کی توفیق بہت دیرہ ہیں علی جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے انتقال پر جماعت میں اختلاف پیدا ہوا اور ہمارے دوست جن کی میرے دل میں بہت عزت تھی قادیان چھوڑ کر لاہور جا بیٹھے تو مجھے بڑی حیرت ہوئی۔اپنی دنوں میں نے لڈیا دیکھا جو میں نے اپنے بھائی چوہدری غلام حسن صاحب کو سنایا جس سے مجھ پر یہ ظاہر ہوا کہ خلافت ثانیہ حی ہے۔اب وہ دور شروع ہوا جب میں نے حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبات اور تحریروں کو پڑھنا شرویے کیا۔اور ان سے ہمیشہ بہت فائدہ اٹھایا اختلاف کے چند روز بعد میں سیالکوٹ سے لاہور آرہا تھا راستہ میں وزیر آباد سٹیش پریشی نواب خان صاحب مرحوم محصلدار مجھے مل گئے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت میں سرشار نظر آیا کرتے تھے اور ہر وقت سلسلہ کی باتیں کیا کرتے تھے اس روز خلاف معمول در زیر آباد سے گوجرانوالہ پہنچنے تک انہوں نے سعد کے متعلق جب کوئی تذکرہ نہ کیا تو میں نے کہا معلوم ہوتا ہے آپ منکرین خلافت میں شامل ہو چکے ہیں۔کیونکہ وہ ذوق تبلیغ اور حضرت مسیح موعود علیہ التاوٰہ والسلام سے محبت آپ میں نہیں رہی۔میرا یہ قیاس صحیح نکات دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب روشن ہے پر نہ چھوٹے ساتھ تونے اے میرے حاجت برار ي