تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 274 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 274

۲۶۳ اور مولوی صاحب ان دنوں وکالت کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔مولوی صاحب اکثر تادیان جاتے رہتے تھے وکالت پاس کرنے کے بعد جب انہوں نے کلی طور پراپنے آپ کو دینی خدمت میں لگا دیا تو ان کی اس قربانی کا میری طبعیت پر بہت اثر ہوا۔کچھ عرصہ بعد میں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے بندوبست میں تعینات ہوا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب وہاں بھی اکثر مجھے تبلیغی خط لکھا کرتے تھے۔میں حسن ظن اور اخلاص رکھتا تھا۔اور یہ تو نہیں چندہ بھی دیا کرتا تھا۔اخبار الحكم اور البدر کا بھی خریدار تھا اور ہمیشہ پڑھا کرتا تھا لیکن جب میں دیکھتا کہ بعض لوگ بعیت کرنے کے بعد مرتد ہو جاتے ہیں تو میں سوچا کرتا کہ حسن علی رہنا زیادہ بہتر ہے بمقابلہ اس کے کہ بعیت کر کے پھر ارتداد کا خطرہ لاحق ہو۔مجھے کو تو شروع سے حسن ظن رہا ہے لیکن جب کبھی میں سنت کہ نہال نے سبجیت کی ہوئی تھی اور وہ مرتد ہو گیا ہے تو میں اکثر یہ تخلیقات کرنے کی کوشش کرتا کہ اس کے ارتداد کی کیا وجہ ہوئی ؟ اکثر مرتدین سے گفتگو کرنے کا بھی موقع ملا۔مثلاً ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب یالوی ہے۔جب وہ کئی رنا لے مخالفت میں لکھنے کے بعد خاموش ہو گئے تو لین نے پوچھا اب آپ خاموش کیوں ہیں ؟ انہوں نے کہا۔اب احدیت کا باقی کیا رہ گیا ہے جو میں کچھ لکھوں گویادہ بزعم خود احدیت کو ختم کر چکے تھے۔بعض لوگ جو باوجود ظاہری قربانیوں کے جماعت سے کٹ جاتے ہیں۔اس کی وجہ وہی ہے جو دنیا میں سب سے پہلے خلیفہ حضر آدم علیہ السّلام کے منکروں کو پیش آئی تھی یعنی وہ مجھے لگ جاتے ہیں کہ اب ہم پر سارا دارومدار ہے اور ان میں اپنی لیاقت اور قربانیوں وغیرہ کے خیال سے تکبر اور رعونت آجاتی ہے جس سے خدائی قانون کے ماتحت ان کا سارا کیا کرایا کہ یاد ہو جاتا ہے۔اللہ تعالے ہم سب کو اس تکبر اور رعونت کی بیماری سے محفوظ رکھے اور ہمارے بچھڑے ہوئے دوستوں کو پھر حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسلام کی تیار کردہ کشتی میں سوار ہو نے اور آپ کے پاس بیٹھنے کی توفیق دے۔ہر اک نیکی کی جڑ یہ انتظار ہے اگر یہ بوڑھ رہی سب کچھ رہا ہے یہی اک نخر شان ادیب ہے بجز تقوا سے زیادت ان میں کیا ہے ڈرو یارو کہ وہ بینا خدا ہے اگر سوچو یہی دار الجزا وہے۔ہمارے خاندان میں سب سے پہلے میرے مرحوم بھائی چوند ری محورین نے بیعت کی اس کے