تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 273 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 273

ہیں : پچاس سال گزرے ہیں۔میں امراء میں سیالکوٹ ہائی سکول میں پڑھتا تھا۔اسی سکول میں حضرت مولوی عبد الكريم صاحب رضی اللہ عنہ مدرس تھے ہیں عموما ہر روز عصر کے بعد مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر وا کرنا۔آپ اکثرا ایسے وقت میں شیخ نتھو صاحب (والد ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب) کما دوکان پر یا میاں مولا بخش صاحب بوٹ فروش کی دکان پر ملتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کی تقریرہ بہت موثر اور صحیح ہوا کرتی تھی میں نے سکول میں عربی کا مضمون سے رکھا تھا اور مولوی صاحب سے عرفی کی ابتدائی کتاب پڑھا کرتا تھا۔اسی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات اور کست قبول برا این احمدیہ اور میر حتم آرید ، وغیرہ کا بہت چرچا تھا اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جن کی طبیعت پہلے نیجریت کی طرف زیادہ راغب تھی حضرت مولودی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کی صحبت کے اثر سے نیچریت سے بیزار ہوکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی غلامی میں داخل ہو گئے تھے مولوی صاحب حکیم حسام الدین صاحب والی مسجدی در یک قرآن دیا کرتے تھے اور اسی میں چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم شامل ہوا کرتے تھے۔سیالکوٹ سکول سے تاریخ ہو کر کہیں اسی ضلع کے بندوبست میں ڈینگ پر تحصیل ظفر دال میں تعینات ہوا اور متواتر کئی سال تک دیہاتی زندگی بسر کی۔ظفر دال میں حافظ فصیح الدین صاحب تحصیلدار تھے جو بظا ہر بہت متشرع اور دیندار الحدیث تھے اور شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے حسن ظنی رکھتے تھے گر بعد میں سخت مخالف ہو گئے۔۱۸۹۶ ء میں حبیب لاہور میں جلسہ مذاہب تھا۔میں حافظ صاحب کے ساتھ جلسہ میں گیا۔تو حضرت مولوی عبد النوم صاحب شیخ پر تھے اور حضرت سیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا مضمون سنار ہے تھے عجیب کیفیت تھی۔سب لوگ ہمہ تن گوش تھے۔تقریر سلنے کے بعد شام کو جب ہم مکان پر پہنچے تو حافظ فصیح الدین صاحب سے حافظ محمد یوسف صاحب ایکڑا اسٹنٹ کمر منے خضر فله مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مضمون کے متعلق دریافت کیا۔انہوں نے کہا۔اسلام اس سے بہتر مضمون میں نے کبھی نہیں سنا۔الغرض باد بود مخالفت کے انہوں نے اس مضمون کا نہایت اصلئے ہونا تسلیم کیا۔ین شاید میں صاحب نکشتہ بند و نسبت پنچایت کے دفتر میں سپرنٹنڈنٹ تھا۔اور لا بھر میں چر مدی شهاب الدین صاحب ، مولوی محمد علی صاحب اور میں ایک ہی مکان سیما رہتے تھے۔جوہی جاتا